غزنی واقعات پر سرکاری وضاحت سے دھول چھٹتی دکھائی دے رہی ہے، میاں افتخار حسین 
سوشل میڈیا پر تاحال واقعات کو ہوا دی جا رہی ہے ، مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
واقعات میں حقیقت ملکی مفادات کے خلاف اور جھوٹ نفرتیں پیدا کرنے کی سازش ہے ۔
سرکاری سطح پر خاموشی نے خدشات اور تحفظات کو جنم دیا ، حقائق سامنے لائے جائیں ۔
پاکستان و افغانستان کے درمیان بہتر اور مثبت تعلقات خطے میں پائیدار امن کیلئے لازم ہیں۔
سوشل میڈیا پر تاحال معاملے کو ہوا دی جا رہی ہے،ملک کا امیج خراب کرنے والے عناصر کی نشاندہی ضروری ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے غزنی کے واقعات پر دفتر خارجہ کی جانب سے وضاحت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر تاحال اس ھوالے سے جو پیغامات چل رہے ہیں ان کی مذید تحقیقات بھی ہونی چاہئے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی لاشیں پاکستان لا کر دفنانے کی نشاندہی اور اس بارے استفسار ہمارا حق تھا اس سے قوم میں خدشات اور تحفظات جنم لے رہے تھے جبکہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر خاموشی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ، انہوں نے کہا کہ وضاحت کے بعد دھول چھٹتی نظر آ رہی ہے تاہم اگر اس قسم کے واقعات میں اگر کوئی حقیقت ہے تویہ انتہائی قابل افسوس ہے اور ملک کے مفادات کے خلاف ہے اور اگر یہ جھوٹ ہے تو ایسے عناصر کی نشاندہی بھی ضروری ہے جو دونوں ملکوں کے درمیانغلط فہمیاں اور نفرت پیدا کرنے کی مذموم کوشش میں مصروف ہیں اور کون سے عناصر ایسی ویڈیوز کے ذریعے ملک کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حقائق تاحال سامنے نہیں آئے اس قسم کے واقعات کی روک تھام انتہائی ضروری ہے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان بہتر اور مثبت تعلقات خطے میں پائیدار امن کیلئے لازم ہیں،انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مزید غلط فہمیوں سے قیام امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا جبکہ دیگر ممالک بھی ان غلط فہمیوں کا فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا ہوں گے اور صرف اسی صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان مل کر دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل اپنائیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان کا وقار کسی صورت داؤ پر نہیں لگنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ دہچت گردی دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور متذکرہ بالا واقعات سے بیرونی دنیا میں ملک کا امیج خراب کرنے کی کوشش تھی ،انہوں نے اس حوالے سے مزید تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔