عوام اور انسانیت کی خدمت کیلئے کرسی اقتدار کا محتاج نہیں، میاں افتخار حسین
مجھے ہرانے والے حلقے میں عوام کی سر عام رائے لے لیں ، 80فیصد عوام کی رائے میرے حق میں ہی ملے گی۔
زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور میں کسی کے ڈر سے عوامی خدمت کے مشن سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔
دھاندلی زدہ پارلیمنٹ اور اس میں آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔
جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے پر دہشتگرد ی کے تھرٹ الرٹ بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
دھمکیوں کے ذریعے مجھے دیوار سے نہیں لگایا جا سکتا، پی کے65میں پارٹی کے تنظیمی اجلاس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مجھے جان بوجھ کر ہرانے والے حلقے میں عوام کی سر عام رائے لے لیں انہیں 80فیصد عوام کی رائے میرے حق میں ہی ملے گی،میرا مشن عوام اور انسانیت کی خدمت ہے جس کیلئے میں اقتدار کا محتاج نہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی میں پورے پی کے65کے نمائندہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر پارٹی کے ذمہ دار مشران عہدیداروں اور کارکنوں نے بھرپور شرکت کی، تھرٹ الرٹ کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ دھاندلی کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے پر دہشتگرد مجھے کیوں ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور میں کسی کے ڈر سے عوامی خدمت کے مشن سے دستبردار نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ میں باچا خان کا سپاہی ہوں اور میری سوچ غریب، کسان ،مزدور اور عام آدمی کی زندگی اور مستقبل روشن بنانے پر مبنی ہے ، انہوں نے حلقے کے عوام سے کہا کہ اگر مجھے اس بات کا دکھ نہیں کہ انسانیت کی خدمت کی راہ میں مجھے شہید کر دیا جائے گا،جس پر اجلاس میں کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور پارٹی مشران اور کارکنوں نے میاں افتخار حسین کو کہا کہ ہمیں آپ کی زندگی خدمت سے زیادہ عزیز ہے، اور پارٹی کے تمام کارکن آپ کے ساتھ ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ راشد شہید فاؤنڈیشن کے ذریعے میں نے غریب اور نادار بثوں کی تعلیم کا بیڑا اٹھایا اور یہ سب الیکشن سے بہت پہلے شروع کیا گیا ہے ، اس اکیڈمی میں غریب اور نادار افراد کے200سے زائد بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہپہلے مجھے اس بات پر دھمکیاں ملتیں کہ میں دہشت گردی کے خلاف بات کرتا تھا اور دہشت گردی کے خلاف اے این پی میدان میں ڈٹ کر کھڑی تھی ، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اب الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں آواز اٹھانے پر دہشت گرد مجھے کیوں ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس سے ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ اس قسم کی دہشت گردی کے پیچھے حکومت کا اپنا ہاتھ ہے،انہوں نے کہا کہ مجھے خدمت کیلئے اقتدار کی ضرورت نہیں البتہ دھمکیوں اور تھرٹ الرٹس سے مجھے اس مشن سے ہٹایا نہیں جا سکتا ، میاں افتخار حسین الیکشن مہم کے دوران اپنی کمپین کیلئے جانی و مالی قربانیاں دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ در حقیقت ہم الیکشن ہارے نہیں جیتے ہیں جبکہ ہمیں سازش کے تحت ہرایا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواستیں بھی اسی لئے مسترد کی گئیں کیونکہ ہارجیت کا پول نہ کھل جائے،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت بے اختیار تھے ،انہوں نے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو سوال ریاست کے کردار پر اٹھے گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ سوائے ایک پارٹی کے باقی تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ انتخابات کو مسترد کر دیا ہے ، لہٰذا الیکشن کمیشن مستعفی ہو جائے اور نئے الیکشن کمیشن کی نگرانی میں نئے انتخابات کرائے جائیں ،انہوں نے کہا کہ ہم اس پارلیمنٹ اور اس میں آنے والے کٹھ پتلی وزیر اعظم کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈرنے والا نہیں ہوں اور دھمکیوں سے مرعوب ہو کر میدان سے نہیں بھاگوں گا ، باچا خان کا سپاہی ہونے کے ناطے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔