سانحہ بابڑہ یزید وقت کے ظلم اور بربریت کا دن اور کسی کربلا سے کم نہیں، امیر حیدر خان ہوتی

12اگست انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور تاریخ کے اوراق سے یہ انسانیت سوز دن کبھی مٹ نہیں سکے گا۔

بابڑہ کی سرزمین بے گناہوں کے خون سے رنگنے والوں کا آج دنیا میں کوئی نام لیوا تک نہیں۔

سانحہ بابڑہ میں نوجوانوں کیلئے سبق ہے کہ وہ کسی بھی طور صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

آزادی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔

پختون پر امن قوم ہے اور صرف عدم تشدد پر یقین رکھتی ہے، 12اگست یوم بابڑہ کے موقع پر خصوصی پیغام

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ 12اگست انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور شہدائے بابڑہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ،12اگست ؂یوم شہدائے بابڑہ کے حوالے سے اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ سانحہ بابڑہ یزید وقت کے ظلم اور بربریت کا دن اور کسی کربلا سے کم نہیں تھا جب باچا خان بابا، عبدالولی خان ، غنی خان کو تحریک کے دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تو اس کے خلاف امن کے علمبردارں اور انسانیت کا پرچار کرنے والوں نے پر امن مظاہرہ کیا جس کی قیادت سالار امین جان کر رہے تھے جبکہ سپین ملنگ اس مظاہرے میں پیش پیش تھے جنہیں سب سے پہلے گولیوں کا نشانہ بنا یا گیا ،اور اس بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت سات سو سے زائد نہتے انسانوں نے عظیم تحریک کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے، انہوں نے کہا کہ یزیدیت کی اس قدر انتہا کی گئی کہ ایک ہزار سے زائد لوگ اندھی گولیوں کا نشانہ بن کے زخمی ہوئے تاہم سرکاری ہسپتالوں میں ان کے علاج پر پابندی کے باعث بیشتر افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ، اور جو زندہ بچ گئے انہیں زندانوں میں ڈال دیا گیا ،انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین سے زبر دستی زمینیں ضبط کی گئیں اور سانحے میں چلائی جانے والی گولیوں کے اخراجات بھی ان سے وصول کئے گئے ،انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر خونریزی کے باوجود خدائی خدمت گاروں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا کیونکہ یہ باچا خان بابا کی تربیت کا نتیجہ تھا ،انہوں نے کہا کہ جس یزید وقت اور اس کے گورنر نے بابڑہ کی سرزمین بے گناہوں کے خون سے رنگ دی ان کا آج دنیا میں کوئی نام لیوا تک نہیں ،امیر حیدر ہوتی نے شہداء کو سلام اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ لازوال قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ سانحہ بابڑہ میں نوجوانوں کیلئے ایک سبق ہے کہ وہ کسی بھی طور صبر وتحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے اپنے فلسفے سے یہ ثابت کیا ہے کہ پختون پر امن قوم ہے اور صرف عدم تشدد پر یقین رکھتی ہے ، انہوں نے کہا کہ شہداء بابڑہ کی قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور وہ قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو اپنے اسلاف اور اکابرین کے نقش قدم پر چلتی ہیں انہو ں نے مزید کہا کہ باچا خان بابا کا قافلہ آج بھی بھرپور طریقے سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے اور اگر ہم اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے رہے تو یقیناً ایک دن ہم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ سانحہ بابڑہ ایک عظیم سانحہ ہے اور آزادی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔