اے این پی کا صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے پارلیمانی و قومی جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ
جرگہ میں صوبے کی پارلیمانی جماعتوں اور پارلیمنٹ سے باہر پارٹیوں کے نمائندوں سمیت تمام مکتبہ فکر کے ماہرین شامل ہونگے۔
سیاحت کا فروغ ،بند کارخانوں کو چالو کرنا ،سی پیک میں صوبے کا حصہ یقینی بناناجرگہ کی ترجیحات میں شامل ہو گا۔
بجلی کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا،واپڈا ہیڈ کوارٹر کی اسلام آباد منتقلی اور پشاور تا کراچی موٹر وے کی تعمیر ہدف ہو گا۔
تمباکو کی نقد آور فصل کو دو کمپنیوں کی اجارہ داری سے آزاد کرنابھی صوبے کے آئینی مسائل میں شامل ہونگے ۔
جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلئے چشمہ رائٹ بنک کینال کی تعمیر ۔
بجلی کی خالص آمدن کی پوری رقم بروقت ملنا ،صوبے میں بجلی پیداوار کے چھوٹے ڈیم بنانا جدوجہد کا حصہ ہو گا۔
صوبے میں ادغام شدہ نئے قبائلی اضلاع کیلئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکج کو بروقت اور صاف و شفاف استعمال کو یقینی بنانا۔
تعلیم کے فروغ کی خاطر یونیورسٹیوں ،میڈیکل کالجز اورپیشہ ور تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔
اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے ۔
خیبر پختونخوا کے وسائل ،ضرورت اور پسماندگی کی بنیاد پر تقسیم کو یقینی بناناجرگہ کی کوششوں کا حصہ ہو گا۔
سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں لیکن صوبے کو آئینی حقوق نہ ملنے کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے تمام جماعتوں پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا جائے گاجس میں صوبائی اسمبلی کے اندر اور باہر موجود تمام جماعتوں کے نمائندے شامل ہونگے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جرگہ صوبے کے آئینی حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے آئینی اور جمہوری جدوجہد کرے گا،انہوں نے کہا کہ بجلی کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا،واپڈا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد منتقل کرنا ، بجلی کی خالص آمدن کی پوری رقم بروقت ملنا ،صوبے میں بجلی پیداوار کے چھوٹے ڈیم بنانا،گیس خیبر پختونخوا کی پیداوار ہونے کے ناطے صوبے کے تمام اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر پہنچانا ،جنوبی اضلاع کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کو چشمہ رائٹ بنک کینال کی تعمیر کے ذریعے قابل کاشت بنانا،پشاور سے کراچی تک موٹر وے کی تعمیر ،صوبے کی نقد آور فصل تمباکو کو دو کمپنیوں کی اجارہ داری سے آزاد کرنا،خیبر پختونخوا کے وسائل کی ضرورت اور پسماندگی کی بنیاد پر تقسیم کو یقینی بنانا،صوبے کے بند کارخانوں کو چالو کرنا ،سی پیک میں صوبے کا حصہ یقینی بنانا،صوبے میں ادغام شدہ نئے قبائلی اضلاع کیلئے اعلان کردہ ترقیاتی پیکج کو بروقت اور صاف و شفاف استعمال کو یقینی بنانا،بجلی منافع کے بقایاجات کیلئے سیاسی و قانونی جنگ لڑنا،سیاحت کو فروغ دینا ،صوبے میں تعلیم کے فروغ کی خاطر یونیورسٹیوں کا قیام ، میڈیکل کالجز اورپیشہ ور تعلیمی اداروں کے قیام کی ضرورت پر زور دینا،اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی راہ مسدود کرنا اور صوبے کے دیگر آئینی حقوق اور بنیادی مسائل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا اس قومی و پارلیمانی جرگہ کا ہدف اور مقصد ہو گا، سردار بابک نے کہا کہ اس مقصد کیلئے اسمبلیوں سے باہر جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا اور جرگہ میں تمام مکتبہ فکر کے افراد کو شامل کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے صوبے کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے ، مہنگائی، بے روزگاری نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ،افرادی قوت وافر تعداد میں موجود ہے ،سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں لیکن صوبے کو آئینی حقوق نہ ملنے کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے،انہوں نے توقع ظاہر کی کہ صوبے کے تمام مسائل کے حل کیلئے اسمبلیوں کے اندر اور باہر جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی جبکہ قومی اسمبلی و سینیٹ میں بھی صوبے کے نمائندوں سے اس سلسلے میں تعاون طلب کیا جائے گا،اور ان کو مسائل کے حل کیلئے کوششوں میں ساتھ ملایا جائے گا۔