Press Conference

اپوزیشن جماعتوں کا پی کے78پر اے این پی کی امیدوار ثمر ہارون بلور کی حمایت کا اعلان 
ضمنی انتخابات میں خالی نشستوں پرخالی کرنے والی پارٹی یا متعلقہ رنر اپ کو میدان میں اتارا جائیگا،انتخابی مہم کیلئے کمیٹی قائم۔
امیر مقام ، اکرم خان درانی ، مولانا شجاع الملک ، طارق خان اور دیگر رہنماؤں کا باچا خان مرکز میں خصوصی اجلاس۔
ملکی سالمیت کو داؤ پر لگاتے ہوئے انجینئرڈ الیکشن کے ذریعے مخصوص جماعت کو اقتدار سونپا گیا۔ میاں افتخارحسین
پیپلزپارٹی کا دل سے احترام کرتے ہیں،دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں۔
حکومت بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہے اگر اپوزیشن مضبوط ہوئی تو حکومت لڑکھڑا سکتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کو نیک نیتی اور خیر سگالی کے طور پر متحدہ اپوزیشن نے امیدوار نامزد کیا ۔
آصف زرداری سے اعتزاز احسن کو دستبردار کرانے کی قوی امید ہے ،میاں افتخار حسین کی پریس بریفنگ

پشاور ( پ ر ) اپوزیشن جماعتوں نے پی کے78پر اے این پی کی امیدوار ثمر ہارون بلور کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ضمنی انتخابات میں خالی نشستوں پر مشترکہ امیدوار کا فیصلہ خالی کرنے والی پارٹی یا دوسرے نمبر پر آنے والے اپوزیشن پارٹی کے امیدوار کے حق میں کیا جائیگا۔، اس بات کا اعلان اپوزیشن رہنماؤں نے باچا خان مرکز میں ایک اہم اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما امیر مقام ، جے یو آئی کے اکرم خان درانی ، مولانا شجاع الملک ،قومی وطن پارٹی کے طارق خان ، اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ،سردار حسین بابک اور ایمل ولی خان سمیت دیگر رہنما موجود تھے ، میاں افتخار حسین نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں دھاندلی پر تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں ،اور دنیا جانتی ہے کہ ملکی سالمیت کو داؤ پر لگاتے ہوئے انجینئرڈ الیکشن کے ذریعے مخصوص جماعت کو اقتدار سونپا گیا، انہوں نے کہا کہ دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں اور جمہوریت کی بقا و ملکی سلامتی کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں بھی اپوزیشن بھرپور حصہ لے گی اور جن حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونگے وہاں مشترکہ امیدوار کا فیصلہ گزشتہ انتخابات میں کاکردگی کی بنیاد پر ہو گاجبکہ مشترکہ انتخابی مہم کو چلانے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جس کے ممبران میں جے یو آئی کے مولانا شجاع الملک،قومی وطن پارٹی کے طارق خان، مسلم لیگ کے ڈاکٹر عباداللہ اور اے این پی کے سردار حسین بابک شامل ہیں، صدارتی امیدوار کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا دل سے احترام کرتے ہیں کیونکہ متحدہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ہر پارٹی اپنے اندرونی فیصلوں میں آزاد ہے تاہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اعتزاز احسن کی نامزدگی کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی تاکہ متحدہ اپوزیشن کی اسپرٹ کو برقرار رکھا جاسکے، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو نیک نیتی اور خیر سگالی کے طور پر متحدہ اپوزیشن نے امیدوار نامزد کیا ہے تاکہ ان کے پیپلزپارٹی کے ساتھ بہترین تعلقات کی بنیاد پر آصف زرداری اپنا امیدوار دستبردار کرا دیں،انہوں نے کہا کہ حکومت بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہے اگر اپوزیشن مضبوط ہوئی تو حکومت لڑکھڑا سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس نمبر ز حکومت سے زیادہ ہیں اور صدارتی امیدوار پر اتفاق ہوا تو قوم جلد خوشخبری سنے گی،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں نازک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں ، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے پیروکار ہیں اور ڈکٹیٹرشپ کی ہمیشہ کھل کر مخالفت کی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں اتحاد کی بنیاد پر جائیں گے اور جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کا راستہ روکیں گے۔