پختونوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کیلئے امریکہ نے داعش لانچ کی، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مستقبل میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر شروع ہونے جا رہی ہے اور پختونوں کو ایک بار پھر اس کا ایندھن بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں مولوی فضل محمود مخفی پر لکھی گئی فضل شلما ن کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے سیکرٹری امور خارجہ بشیر احمد مٹہ ، جمیلہ گیلانی،منتظم باچا خان مرکز انجینئر اعجاز یوسفزئی اوردیگر مقررین نے بھی خطاب کیا، میاں افتخار حسین نے مولوی فضل محمود مخفی کی زندگی اور جدوجہد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کا شمار تحریک آزادی کے نامور ہیروز میں ہوتا ہے،انہوں نے موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے بارے میں کہا کہ طالبان کے مقابلے میں امریکہ نے داعش لانچ کر دی ہے تاہم انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ دونوں کی لڑائی میں صرف پختون ہی مارے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے ثقافتی قدریں مشترک ہیں اور ہم خود کو اس سے الگ نہیں کر سکتے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کے خاتمے کیلئے رضامندی خوش آئند ہے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی باچا خان کی تحریک کا تسلسل جماعت ہے اور اس نے ہمیشہ پختونوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کی ہے تاہم اس تحریک کو نہ چھیڑا جائے اور جن لوگوں کے اپنے مقاصد ہیں وہ اے این پی کا نام استعمال نہ کریں ، انہوں نے کہا کہ ہم کسی تحریک یا تنظیم کی مخالفت نہیں کرتے البتہ پختونوں کے حقوق کی جب بھی بات ہوگی اے این پی اپنا پلیٹ فارم استعمال کرے گی،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ پارلیمانی سیاست کی ہے اور تمام مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ بہترین فورم ہے ، انہوں نے کہا کہ جہاں تک نقیب اللہ محسود کی شہادت اور پختونوں کے مسائل کا تعلق ہے اسفندیار ولی خان نے اسلام آباد دھرنے میں خطاب کیا اور میں خود کراچی تک گیا ،انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ کے بعد اس کے دو ساتھی بھی مارے جا چکے ہیں لیکن کوئی آواز اٹھانے والا نہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پختونوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے اے این پی نے جلد اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ حل طلب ہے اور طویل عرصہ سے حکومت کی جانب سے اسے حل نہیں کیا جا رہا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور آئین میں ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں فاٹا کا حصہ مختص کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے لہٰذا اس کی ترقی کیلئے مالی پیکج کو بھی یقینی بنایا جائے ، فاٹا کے بیشتر علاقوں میں بچھی مائینز سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں لہٰذا مزید جانی نقصان روکنے کیلئے ان مائینز کو صاف کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے اور دہشت گردی و بارودی سرنگوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے ورثا کو شہداء پیکج دینے کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے جگہ جگہ قائم چیک پوسٹوں نے مردو خواتین بچوں ، بزرگوں اور بیماروں کو مزید ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا ہے جس سے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے سدباب کیلئے بھی سنجیدہ اقدامات کئے جائیں اور نقیب اللہ محسود سمیت تمام بے گناہ افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کر کے ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کسی تحریک کی مخالفت نہیں کرتی اور پارٹی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے عہدیدار اور کارکن پارٹی آئین کے پابند ہیں ،انہوں نے کہا کہ مسائل پر بات چیت کیلئے پارٹی کا پلیٹ فارم موجود ہے۔