مسلم لیگی گورنر اور پی ٹی آئی کے وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ہے، سردارحسین بابک
 نیب حکومت کے میگا کرپشن کیسز کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔
 امید ہے کہ نیب شفاف اور غیرجانبدارانہ بلاامتیاز احتساب کو عملی بنائیں گے۔
جماعت اسلامی واضح کرے کہ کن وجوہات کی بناء پر حکومت سے علحیدہ ہوئے۔
جماعت اسلامی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے گی یا حکومتی؟
وزیراعلی وضاحت کریں کہ ان کو 122 ممبران کے ہاوس میں کتنے کی حمایت حاصل ہے؟
دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے والے وزیراعلی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں۔
عوام صوبے کے خزانے کو کنگال کرنے والوں کا کڑا احتساب کرینگے۔
روز روز فیصلے بدلنے والی حکومت بوکھلاہٹ کی شکار ہے۔
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ مسلم لیگ کے گورنراور پی ٹی آئی کے وزیراعلی کا گٹھ جوڑ ہے ورنہ آئینی طور پر موجودہ حالات میں وہ وزیراعلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کو کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ دو دفعہ اپوزیشن کے ریکوزیشن کو نظر انداز کرکے گورنر نے حکومت کے کہنے پر اجلاس بلایا۔انہوں نے کہا کہ نیب موجودہ صوبائی حکومت کے میگا کرپشن کیسزکا نوٹس لیں۔ حکومت کے اپنے وزراء اور ممبران کا ایک دوسرے پر سنگین کرپشن کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ نیب کے سامنے وزیراعلی کی پیشیاں شروع ہوگئیں ہیں۔ امید ہے کہ نیب بلاامتیاز احتسابی عمل کو آگے بڑھائیں گے،موجودہ دور حکومت میں میگا کرپشن کی داستانیں روزانہ میڈیا کی سرخیاں بنتی جارہی ہیں۔وزیراعلیٰ قوم کو بتائیں کہ اسمبلی کے ایک 122 ممبران میں ان کو کتنے ارکان کی حمایت حاصل ہے؟ دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے والے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے سے کیوں کترارہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے قائدین وضاحت کریں کہ انہوں نے کونسی وجوہات کی بنیاد پر حکومت کے اخری ایام میں حکومت کو خیرباد کہا؟ جماعت اسلامی کو اپوزیشن میں خوش آمدید کہیں گے لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ وہ اب بھی اپوزیشن کا حصہ ہونگے کہ حکومت کا؟ 
ایم ایم اے کی ایک جماعت پی ٹی آئی کی انتہائی مخالف اور دوسری حمایتی ہے، عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں مذہب کو ذاتی، سیاسی اور حکومتی مقاصد کیلئے استعمال کرنا سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان میں کھلم کھلا بغاوت تبدیلی کے ثمرات ہیں۔ موجودہ اسمبلی میں بری طرح اپنی اکثریت کھونے والے کس طرح آئیندہ حکومت بنانے کے دعوے کررہے ہیں۔ صوبے کے عوام صوبے کے خزانے کو کنگال کرنے والوں کا کڑا احتساب کرینگے۔ حکومت کے پاس رواں منصوبوں کیلئے بھی رقم موجود نہیں ہے یہ کیسی منصوبہ بندی تھی، کیا ٹیم تھی، کونسی وژن تھی، عوام نے سب کچھ اپنی انکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ صوبے میں بے روزگاری اور مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اغوا برائے تاوان میں اضافہ خطرناک صورت اختیار کیا ہوا ہے۔ حکومت واضح کرے کہ ان کے آنیوالے بجٹ میں عوام کیلئے کونسی اچھی خبر ہے؟ روز بروز فیصلہ بدلنے والی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔