مرکز میں کسی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملے گی،امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کسی جماعت کو مرکز میں واضح اکثریت نہیں ملے گی اور حکومت سازی کیلئے باچا خان کے پیروکاروں کی ضرورت پڑے گی ، حکومت سازی کیلئے صوبے کے حقوق کی بنیاد پر تعاون کریں گے، جب تک اے این پی میدان میں ہے اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی اور صوبے کے حقوق حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے، ان خیالات کا انہوں نے صوابی کے علاقوں زیدہ اور کلابٹ میں مختلف شمولیتی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر اہم سیاسی شخصیات نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں مرکز میں کوئی سیاسی جماعت حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں ہو گی اور اقتدار میں آنے کیلئے پختونوں کی ضرورت پڑے گی تاہم اقتدار یا وزارت کی بجائے ہم پختونوں کے حقوق کی بنیاد پر حکومت سازی میں تعاون کریں گے،18ویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں صوبے کے حقوق حاصل کئے لیکن اب انہیں واپس چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم اٹھارویں ترمیم کی حفاظت کریں گے اور وفاق کے پاس رہ جانے والے باقی حقوق بھی صوبے کو دلائیں گے۔امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ملک میں پختونوں کی تقسیم کسی صورت ملکی مفاد میں نہیں دوبارہ اقتدار میں آ کر پختونوں کے اتحاد و اتفاق اور یک جہتی اولیں ترجیح ہو گی، انہوں نے کہا کہ پختونخوا سے ووٹ لینے والوں اور حکومت بنانے والوں نے پختونوں کے حقوق کیلئے کوئی دھرنا نہیں دیا ،126دن کا دھرنا بھی صرف پنجاب کی سیاست کیلئے تھا اور اب بھی اس صوبے کے وسائل پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے استعمال ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پختونوں کی محرومیوں کے بدلے تخت اسلام آباد کی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ، مرکزی حکومت نے بھی صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا لاہور سے ملتان اور کراچی تک موٹر ویز بن سکتی ہیں تو ہمارے صوبے میں پشاور سے ڈی آئی خان تک موٹر وے کیوں تعمیر نہیں ہو سکتی، انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنا بڑا کچکول نہیں گھمایا جتنا موجودہ حکومت نے گھمایا ہے اور صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر اتنا قرضہ لیا ہے جو آنے والی کو حکومت کو چکانے کیلئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے ممبران بک گئے اور کپتان نے خود قوم کے سامنے اس کا اعتراف کیا لیکن دولت کی چمک کیلئے جسے بیماری کا نام دیتے رہے اسی زرداری کی گود میں جا بیٹھے، انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں پر کرپشن کے الزامات لگانے سے پہلے عمران خان اپنی جماعت میں موجود کرپشن ختم کریں، عوام ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو پہچانیں ، انہوں نے کہا کہ پختونوں سے ووٹ لے کر صوبے کے تمام وسائل پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے لٹائے جا رہے ہیں پختون آپس میں اتحاد کا مظاہرہ کریں تو ان کے اور صوبے کے حقوق کا تحفظ اے این پی یقینی بنا سکتی ہے۔