متنازعہ مسائل چھیڑ کر صوبوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،میاں افتخار حسین
کالاباغ ڈیم دفن ہو چکا ہے ، اٹھارویں ترمیم ایک انقلاب ہے جس کا سہرا اے این پی کے سر ہے ۔
وفاقی بجٹ پر اپوزیشن کا مؤقف درست لیکن تنخواہوں کیلئے بجٹ پیش کرنا بہت ضروری تھا ۔
بجٹ میں ترقیاتی سکیموں کو سیاسی رشوت کیلئے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔
سی پیک میں مغربی اکنامک کوریڈور کو نظر انداز کر کے صوبے میں سرمایہ کاروں کیلئے راستہ بند کیا جا رہا ہے۔
سی پیک کے 39ارب ڈالر پنجاب میں مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کئے گئے ، بٹ خیلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ پر اپوزیشن کا مؤقف درست ہے تاہم غیر ترقیاتی کاموں اور تنخواہوں و پنشنز کیلئے بجٹ پیش کرنا بہت ضروری تھا ، ان خیالات کا اظہار انہون نے بٹ خیلہ پرہس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، دیر لوئر کے صدر ھسین شاہ یوسفزئی ،عنایت خان اور ملاکنڈ کے جنرل سیکرٹری اعجاز علی خان بھی ان کے ہمراہ تھے، قبل ازیں میاں افتخار حسین چکدرہ میں ظاہر شاہ اوچ مرحوم کی وفات پر فاتحہ خوانی کیلئے پہنچے، انہوں نے مرحوم ظاہر شاہ کی پارٹی کیلئے گرانقدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا ظاہر شاہ اوچ جیسی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں اور ان کی وفات اے این پی کیلئے بڑا نقصان ہے،بٹ خیلہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ آخری ماہ میں بجٹ پیش کرنے سے وہ متنازعہ توہو گیا ہے البتہ یہ غریب ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز کے نقطعہ نگاہ سے درست فیصلہ تھا ،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ترقیاتی منصوبوں پر جو پابندی لگائی ہے سیاسی جماعتیں اس کا ادراک کریں اور ان منصوبوں کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ پری پول رگنگ روکنے کے حوالے سے مناسب فیصلہ ہے ،ہمارے دور میں یہ پابندی بہت پہلے لگا دی گئی تھی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومتیں اپنی مدت پوری کر چکی ہیں اور اب یہ فیصلہ عوام کو کرنے کا حق ہے کہ کس نے کتنی کارکردگی دکھائی 
سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں وفد نے چینی سفیر سے ملاقات کی ، اس ملاقات میں چین کے سفیر نے مغربی اکنامک کوریڈور کے حوالے سے یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مغربی روٹ ضرور تعمیر ہو گا، لیکن حکومت نے اسے سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا اور پختونوں کا حق ایک بار پھر غصب کر لیا گیا ، انہوں نے کہا کہ پختونوں کو مغربی اکنامک کوریڈور میں صرف ایک سڑک دی جا رہی ہے جبکہ انڈسٹریل زون کا کہیں نام و نشان تک نہیں،میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ وفاقٰ حکومت ہوش کے ناخن لے اور مغربی اکنامک کوریڈور کو اس کی اصل روح کے مطابق تعمیر کیا جائے ،انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک میں انرجی اینڈ پاور کے منصوبوں کیلئے 39ارب ڈالر ملے لیکن یہ رقم پنجاب میں کوئلے سے مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کی گئی اور ہمارے صوبے کی خدمات کو نظر انداز کر دیا گیا ، انہوں نے استفسار کیا کہ حکمران 80پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اس اقدام سے نہ صرف ہمارے صوبے میں سرمایہ کاروں کا راستہ بند کیا جا رہا ہے بلکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہوش کے ناخن لے تو خیبر پختونخوا اور فاٹا کے قدرتی ذرائع سے استفادہ کر کے ملک کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچایا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ پختونوں کے مسائل کے حوالے سے اے این پی کا مؤقف واضح ہے اور جمہوری و پارلیمانی انداز میں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھاتی رہے گی،ٹھارویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم ایک انقلاب تھا جس کا سہرا اے این پی کے سر ہے اور 18ویں ترمیم کی بدولت ملک مضبوط ہوا ، انہوں نے کہا کہ جو اٹھارویں ترمیم ختم کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ کم ہونے پر پریشان ہیں ، حقوق چھیننے کی صورت میں ایک بار پہلے مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا ہے لہٰذا ملک اس بار ایسی کسی پالیسی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں چل سکتا ، انتخابات کا مقررہ وقت پر آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کا مسئلہ ہمارے لئے زندگی اور موت سے بھی بڑھ کرہے ،ملک کے تمام صوبے اس کی مخالفت کر چکے ہیں اور اسمبلیوں سے اس کی مخالفت میں قرار دادیں پاس کر چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان ببانگ دہل اعلان کر چکے ہیں کہ اگر اس مسئلے کو دوبارہ چھیڑا گیا تو اے این پی بھرپور مزاحمت کرے گی اور اے این پی کا ہر کارکن میدان میں نکلے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو کمزور کرنے کی پالیسی ملک کے مفاد میں نہیں ہے 
فاٹا اور قبائلی عوام کے مسائل و مشکلات اور پی ٹی ایم کے مطالبات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تمام مطالبات اے این پی کے دیرینہ مطالبات ہیں جو وہ روز اول سے کرتی آئی ہے ہم پی ٹی ایم کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں البتہ طریقہ کار پر اختلاف ہو سکتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومتی سطح پر پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور مجھے بذات خود اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاہم جرگہ میں شرکت کیلئے فریقین کو اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان سے رابطہ کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کو کمشنر مانیٹر کر رہے ہیں جبکہ قبائلی رہنما شاہ جی گل آفریدی اور دیگر ان کی پشت پر ہیں اسی طرح گورنر اور وزیر اعلیٰ بھی پیچھے کھڑے ہیں ، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا حق ہے اور جمہوری دور میں اس پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی،انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں لیاقت باغ سے لاشیں بھی اٹھائی ہیں لہٰذا جمہوریت میں سب کو اپنے اظہار رائے کا حق ہے ،جب آئینی طریقے سے اٹھائی گئی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے گی تو لوگ غیر آئینی راستہ اختیار کریں گے۔