صورتحال غیر واضح ہے،قندور واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے قندوز افغانستان میں دستار بندی کی تقریب پر سیکورٹی فورسز کی کاروائی کے دوران معصوم شہریوں اور بچوں کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیمیں بچوں اور مدارس کو ڈھال اور اپنے تحفظ کیلئے ریت کی بوریوں کے طورپر استعمال کر رہے ہیں جس سے عام شہری اور معصوم بچے مارے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کاروائی کرنے والوں کو احتیاط سے کام لینا چاہئے اور ان کے پاس کاروائی کے کئی ایسے مواقع موجود ہوتے ہیں جن میں دہشت گردوں کو باآسانی ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ابھی تک اس حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں اور اصل حقائق کسی کے پاس نہیں تاہم اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئے اور جنہوں نے یہ کاروائی کی ہے ان سے بھی باز پُرس ہونی چاہئے کہ حملے میں صرف معصوم بچے ہی کیوں شہید ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کی وائرل ہونے والی ویڈیو نے شکوک و شبہات کو جنم دے رکھا ہے اس حوالے سے بھی وضاحت ہونی چاہئے کہ حملے میں کون ملوث ہے ، اگراس حملے میں دہشت گرد ملوث ہیں تو یہ ایک خطرناک صورتحال ہے،اور دوسرا یہ کہ یہ کاروائی دہشت گردوں کے خلاف تھی تو ابھی تک کسی دہشت گرد کے حوالے سے کوئی تصدیق کیوں نہیں ہوئی ، انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اگر دہشت گرد اس مدرسے میں پناہ لئے ہوئے تھے تو ایسے مدارس کے کوئی تو قواعد و ضوابط بھی ہونگے،یہ ایسی باتیں ہیں جن کی تحقیقات ہونی چاہئے اور حقائق سامنے لائے جانے چاہئیں اور اس کاروائی میں جو دہشت گرد اب فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں انہیں جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ذمہ ڈولہ میں بھی ایک ایسی ہی کاروائی کی گئی جس کی ہم نے پرزور مذمت کی تھی اور اس کے خلاف لانگ مارچ بھی کیا گیا تھا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا طریقہ واردات ناجائز ہے اور وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف کاروائی میں عام شہری اور معصوم بچے شہید ہوں تاکہ انہیں عوام کی ہمدردیاں حاسل ہو سکیں،انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تو دہشت گرد ہیں انہیں انسانی جانوں سے کوئی غرض نہیں البتہ انہیں مارنے کے مواقع اور بھی مل سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والوں کے لواحقین سے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اب ان لواحقین کی داد رسی کی جائے تاکہ دہشت گردوں کو عوام کی ہمدردیاں نہ مل سکیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوام کو یہ احساس ہے کہ ان کے بچے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے دوران شہید ہوئے ،لیکن کاروائی کرنے والوں کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران معصوم شہری اور بچے نشانہ نہ بنیں۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ دور میں اب اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسیاں سپرپاورز کے مفاد میں نہ بنائیں اور اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل کر کے انہیں قومی مفاد کے پیش نظر ترتیب دیں، انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی پالیسی ملکی مفاد میں نہیں جس کا ایندھن معصوم بچے بنتے ہوں۔