دہشت گرد تنظیموں کی پارلیمنٹ تک رسائی کا راستہ روکنا ہوگا،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی سیاسی جماعتوں کی حیثیت سے رجسٹریشن لمحہ فکریہ ہے اور اگر اسے روکا نہ گیا تو مستقبل میں بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی خٹک نامہ کی دو یونین کونسلوں جلوزی اور سپین خاک کے مشترکہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ پختونوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے باہمی اتحاد واتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے اور اے این پی ان مسائل و مشکلات کے خاتمے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں جاری امن دراصل عارضی خاموشی ہے جو دہشت گردوں کی نرسریوں کو فنڈز دے کے کرائی گئی ہے البتہ اگر فنڈز کی فراہمی کا سلسلہ رکا تو ملک ایک بار پھر بد امنی کی لپیٹ میں آ جائے گا،انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں سیاسی جماعتوں کے طور پر خود کو رجسٹر کرا رہی ہیں اور مستقبل میں اب دہشت گرد قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ میں پہنچنا چاہتے ہیں مرکزی و صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی اور ان کا راستہ روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہونگے،انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پختونوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے اے این پی نے جلد اے پی سی بلانے کا فیصلہ کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ حل طلب ہے اور طویل عرصہ سے حکومت کی جانب سے اسے حل نہیں کیا جا رہا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور آئین میں ترمیم کر کے صوبائی کابینہ میں فاٹا کا حصہ مختص کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ فاٹا دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے لہٰذا اس کی ترقی کیلئے مالی پیکج کو بھی یقینی بنایا جائے ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ فاٹا کے بیشتر علاقوں میں بچھی مائینز سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں لہٰذا مزید جانی نقصان روکنے کیلئے ان مائینز کو صاف کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے اور دہشت گردی و بارودی سرنگوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے ورثا کو شہداء پیکج دینے کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے جگہ جگہ قائم چیک پوسٹوں نے مردو خواتین بچوں ، بزرگوں اور بیماروں کو مزید ذہنی کرب میں مبتلا کر رکھا ہے جس سے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائیاور اس کے ساتھ ساتھ مختلف علاقون میں جاری ہفتہ وار کرفیو کا خاتمہ کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ کے سدباب کیلئے بھی سنجیدہ اقدامات کئے جائیں اور نقیب اللہ محسود سمیت تمام بے گناہ افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کر کے ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چینی سفیر کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مغربی اکنامک کوریڈور ہر صورت تعمیر کیا جائے گا تاہم حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ، پختونوں اور فاٹا کے عوام کو سی پیک کے ثمرات سے محروم کیا گیا اور مرکزی حکومت شروع دن سے خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سی پیک میں انرجی اینڈ پاور کے منصوبوں کیلئے 39ارب ڈالر ملے لیکن یہ رقم پنجاب میں کوئلے سے مہنگی بجلی پیدا کرنے پر صرف کی گئی اور ہمارے صوبے کی خدمات کو نظر انداز کر دیا گیا ، انہوں نے استفسار کیا کہ حکمران 80پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اس اقدام سے نہ صرف ہمارے صوبے میں سرمایہ کاروں کا راستہ بند کیا جا رہا ہے بلکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہوش کے ناخن لے تو خیبر پختونخوا اور فاٹا کے قدرتی ذرائع سے استفادہ کر کے ملک کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچایا جا سکتا ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور عوام جس قدر آج بے بس اور لاچار ہیں پہلے کبھی نہیں تھے، انہوں نے کہا کہ صوبے کو کنگال کر دیا گیا اور مال بنانے کیلئے بی آر تی کا سہارا لیا جس کا خمیازہ پشاور کے عوام بھگت رہے ہیں ، کرپشن اور کمیشن کی ایک ایسی مثال قائم کی گئی ہے جوصوبے کی تاریخ پر بد نما داغ ہے،انہوں نے کہا کہ تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کا دعوی کرنے والوں کے ممبران اسمبلی سینیٹ الیکشن میں چمک کے زیر اثر آ گئے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ضمیر فروشی سے بڑھ کر کوئی کرپشن نہیں ، ووٹ بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو سزا ملنی چاہئے تاکہ ایوان کا وقار بحال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد حلقے کی سطح پر گرینڈ جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا۔