تاجر برادری حکومتی غیر سنجیدگی کی وجہ سے عجیب مخمصے کی شکار ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے کی تاجر برادری حکومتی غیر سنجیدگی اور تاجروں کیلئے کوئی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے عجیب مخمصے کی شکار ہے اور اسی وجہ سے مہنگائی کے اثرات تاجر طبقے اور عوام پر براہ راست پڑ رہے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے شفیع مارکیٹ پشاور صدر کی نو منتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے صوبائی سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں تاجر طبقہ شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مال مہنگا ہونے کے باعث عوام کی قوت خرید بھی جواب دے گئی ہے جس کا اثر بھی تاجر برادری پر پڑتا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں سب سے زیادہ امن و امان کا مسئلہ ہے حالات بہتر نہ ہوں تو کاروبار کا ٹھپ ہونا یقینی ہے، کارخانے بند ہو چکے ہیں اور صوبے میں موجود واحد انڈسٹریل زون بھی مرکز ی و صوبائی حکومتوں کی غیر سنجیدگی کے باعث کارخانوں کا قبرستان بن چکا ہے،انہوں نے کہا کہ یہی حالات حیات آباد میں بھی ہے جہاں کارخانوں کی بندش معمول بنتی جا رہی ہے اور لوگ سرمایہ یہاں سے منتقل کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت عارضی خاموشی کی بجائے امن و امان کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کریاور کارخانہ داروں و تاجر برادری کو مراعات دے تا کہ اس کے اثرات عوام تک بھی پہنچیں ، سی پیک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کوریڈور سے کاروباری طبقے کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے بھی درآمدات و برآمدات کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ،، انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے یہاں مہاجروں کی بے دخلی کا شور رہا تاہم ان افغان مہاجرین کے جانے سے صوبے میں تجارت اور کاروبار کو نقصان پہنچا کیونکہ انہوں نے یہاں سرمایہ کاری کی ہوئی تھی ، ہسپتال اور دیگر کاروبار جام ہو گیا ،میاں افتخار حسین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اب بھی جو مہاجرین یہاں کاروبار سے منسلک ہیں انہیں تحفظ فراہم کیا جائے ، شناختی کارڈز کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا قانون رائج ہے جو کسی کی بھی سمجھ سے بالاتر ہے ، معین قریسی پاکستان کے وزیر اعظم پہلے بنے لیکن ان کا شناختی کارڈ بعد میں بنایا گیا جبکہ ملک میں بسنے والے پختونوں کے کارڈز بلاک کئے گئے اور انہیں کے جائز حق اور شناخت سے محروم کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بالخصوص یہ صورتحال ہے زمانہ قدیم سے یہاں مقیم قوم افغان کے بھی شناختی کارڈز بلاک کر دیئے گئے عاقبت نا اندیش افغان قوم کی تاریخ سے نا بلد ہیں جس کا خمیازہ پختون قوم نے بھگتا،انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تاجر برادری کو آپس میں اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے انتخابی عمل جمہوریت کا حصہ ہے اور الیکشن میں کامیابی و ناکامی کا سامنا کرنے والوں کو مل کر بہتری تجارت کیلئے ایکدوسرے سے تعاون کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ حکومت پہلی فرصت میں تاجر برادی کیلئے ٹھوس اور مثبت پالیسی بنائے۔