نقیب اللہ شہید کا مارائے عدالت قتل پختونوں کے خلاف سازش ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ باچا خان بابا جیسی عظیم ہستی نے اپنی زندگی مخلوق خدا کی خدمت کیلئے وقف کئے رکھی ، انہوں نے دنیا بھر میں پختونوں کو ایک شناخت دی اور ان کا نام روشن کیا جبکہ اپنی سوچ فکر اور عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے برداشت کا علم دیا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد پریس کلب میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام باچا خان اور ولی خان بابا کی برسی کی منسابت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پپی کی مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر ،این وائی او کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ، سنگین خان ایڈوکیٹ اور این وائی اسلام آباد کے صدر فہیم یوسفزئی نے بھی خطاب کیا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچاخان بابا اور ولی خان بابا کی برسی منانے کا مقصد ان کے تصورات اور خیالات کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہے ،انہوں نے کہا کہ باچا خان نے قوم کو غلامی سے آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کی اور آزادی کیلئے ضرورتِ علم کو محسوس کرتے ہوئے بے شمار سکول قائم کئے ،اور قلم کے فلسفے کے ذریعے انگریز کو نکال کر قوم کو آزادی دلائی ، انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا وہ شخصیت تھے جن کی وفات پر تین ملکوں نے اپنے پرچم سرنگوں کئے ،باچا خان بابا نے پختونوں کو ایک ایسی جِلا بخشی کہ وہ اتحاد و اتفاق کی مثال بنے اور یہی وجہ تھی کہ انتہائی کم عرصہ میں ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ اسی لئے دیا کہ ماضی میں پختونوں کی تاریخ میں لڑائی جھگڑوں اور بزور طاقت حکمرانی کی جاتی رہی لہٰذا باچا خان نے قوم میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلم کا سہارا لیا ، اسی طرح جو اقتصادی نظام باچا خان نے دیا اس میں سماجی انصاف بنیادی نکتہ تھا تاکہ سب کو برابری کی بنیاد پر حق ملنا چاہئے،انہوں نے کہا کہ خان عبدالولی خان نے باچا خان بابا کی سیاست کو تسلسل دیا اور جمہوریت کیلئے ان کی کاوشیں اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کو امیدوار نامزد کیا تھا، ولی خان جمہوریت کے علمبردار تھے اور اگر جمہوریت سے خان عبدالولی خان کا نام نکال دیا جائے تو ملک میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا،انہوں نے کہا کہ آج تاریخ گواہ ہے کہ ولی خان بابا کے بیانات اور ان کی گفتار پر لوگ اپنی پالیسیاں بناتے ہیں،ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے نقیب اللہ محسود کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ پختون نوجوان کو شہید کر کے ظلم اور زیادتی کی انتہا کر دی گئی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی پختونوں کے ماورائے عدالت قتل پر خاموش نہیں رہے گی ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ راؤ انوار اور اس واقعے میں ملوث دیگر تمام ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ،انہوں نے کراچی میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے واقعے کو پختونوں کے خلاف سازش قراردیتے ہوئے کہاکہ نقیب اللہ محسود پختون قوم کا شہیدہے، سندھ سے ایسے واقعات کے پیش آنے سے پختونوں کو کیاپیغام دیاجارہاہے؟ انہوں نے کہاکہ پختونوں نے امن کی خاطر اور دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں دہشت گردی کے شکار پختونوں کو دہشت گردی کے بھینٹ چڑھایاجارہاہے انہوں نے چیف جسٹس کی طرف سے واقعے کی ازخود نوٹس لینے کا خیر مقد م کرتے ہوئے کہاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے تمام پارٹیوں کو مل کر لائحہ عمل طے کرناہوگاتاکہ مستقبل میں نقیب اللہ جیسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے،انہوں نے کہاکہ اسماء واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، انہوں نے کہاکہ اے این پی اس افسوس ناک واقعے پر سیاست اورسیاسی سکورننگ نہیں کرناچاہتی لیکن اس قسم کا واقعہ جب قصور میں رونما ہوا تو چند سیاسی جماعتوں نے زمین آسمان ایک کردیئے لیکن جب خیبرپختونخوا میں ایسے واقعات پیش آئے توان کے تاثرات الگ تھے، انہوں نے کہاکہ قصور واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب صبح پانچ بجے پہنچ جاتے ہیں لیکن ہمارے وزیراعلیٰ پانچ دن بعد متاثرہ خاندان کے پاس جاتے ہیں، میاں افتخار حسین نے کہاکہ ڈی آئی خان ، مردان اور خوشمقام نوشہرہ میں پیش آنے والے واقعات کے ملزمان کو گرفتارکیاجائے ،اے این پی اس حوالے سے پرامن احتجاج جاری رکھے گی ۔