کارکن الیکشن کی تیاری کریں ، مستقبل اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان پختونوں سے مخلص نہیں اور دونوں کے درمیان جنگ صرف تخت اسلام آباد کیلئے ہے، کپتان نے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کے حقوق کو پس پشت ڈال کر صوبے کو نظر انداز کر دیا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 4کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر سینئر رہنما عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ، ارباب محمد طاہر خان خلیل اور ارباب مجیب الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، انہوں نے مزید کہا کہ اب پی ٹی آئی اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی جماعت نہیں کر سکتی ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ صرف پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کیلئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این اے 4اے این پی کا گڑھ ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اے این پی اس حلقے سے بھرپور کامیابی حاصل کرے گی ، انہوں نے کہا کہ پختون قوم اب بیدار ہو چکی ہے اور اپنے حقوق کیلئے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد جماعت ہے جس کا مقصد حصول اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اے این پی پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں ، اور قوم کو بتائیں کہ انہوں نے چار سال میں کون سا تیر مارا ہے ، تبدیلی کے نام پر آنے والے صوبے کا پرانا نظام بھی لے ڈوبے اور نیا نظام بھی نہ دے سکے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں کرپشن مافیا کا راج ہے اور آئے روز میڈیا میں ان کی کرپشن کہانیاں قوم کے سامنے آ رہی ہیں،صوبہ شہر نا پُرسان میں تبدیل ہو چکا ہے ، خزانہ لوٹ لیا گیا ہے اور بیرونی دنیا سے اتنے قرضے لئے گئے ہیں کہ اب انہیں چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ کپتان کشکول توڑنے کے وعدے کرتے رہے لیکن اب چار سال میں کشکول اتنا گھمایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کمیشن صرف سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے بنایا گیا اوراب حکمران اے این پی کی مقبولیت میں اضافے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ الیکشن کیلئے اپنی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں اور آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا۔