مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے خواتین کی ترقی اورخودمختاری پر فوکس اولیں ترجیح ہونی چاہئے، میاں افتخار حسین

* پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے خواتین کو برابری کی بنیاد پر حقوق کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کی ترقی و خود مختاری کے ذریعے ہی معاشرے میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے ،اے این پی خواتین کی آزادی پر یقین رکھتی ہے البتہ یہ آزادی مادر پدر آزاد نہیں ہونی چاہئے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے مقامی ہوٹل میں ’’خواتین دوست قوانین کی پاٹا تک رسائی ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس حوالے سے کئے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ اے این پی کے دور میں اس مقصد کیلئے آزاد کمیشن بنایا گیا تاکہ سیٹلڈ ایریا میں خواتین کے تمام بنیادی مسائل حل ہو سکیں ، ان میں سے کئی نکات پر عمل درآمد بھی ہوا تاہم اب بھی بہت کام کرنا باقی ہے ، انہوں نے کہا کہ مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے خواتین کی ترقی اورخودمختاری پر فوکس اولیں ترجیح ہونی چاہئے ،خواتین اس معاشرے کا نصف یا شاید اس ے کچھ زیادہ ہیں لہٰذا ان کی پسماندگی کا خاتمہ ہونا چاہئے اور انہیں تمام انسانی و بشری حقوق ملنے چاہئیں ، ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں وہاں مردوں کو فوقیت دی جاتی ہے تاہم خواتین کو ترقی کے شعبوں میں آگے نہیں آنے دیا جاتا اور اگر یہی سلسلہ برقرار رہا تو معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر ماضی کے واقعات پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں لڑکیوں کے سکول تباہ کئے گئے ان کی تعلیم و تربیت پر پابندی لگانے کی کوششیں کی گئیں اور انہیں چار دیواری تک محدود رکھنے کی جسارت بھی ہوئی یہاں تک کہ شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی ان پر قدغنیں لگائی گئیں ،انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک صورتحال اور گھٹن کے ماحول کوختم کرنے کی ضرورت ہے،اور خواتین کو ایک ایسا ماحول دیا جائے جس میں وہ خود کو محفوظ تصور کر سکیں،انہوں نے کہا کہ ہماری تہذیب ، ثقافت اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ خواتین کی ترقی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا اور اس مقصد کیلئے انسانی بشری حقوق تک خواتین کی رسائی بنیادی جزو ہے، ملک کی ترقی میں ہمیشہ سے خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے لہٰذا اس ذہن کو تبدیل کرنا ہو گا جو خواتین کی ترقی اور انہیں حقوق کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ 
میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ماضی میں جو سیاسی و مذہبی قوتیں خواتین کی ترقی کے مخالف رہیں آج وہ بھی اپنے طرز عمل میں تبدیلی لا کر خواتین کو ہر میدان میں سرگرمیاں جاری رکھنے کی ضرورت کو محسوس کرتی ہیں کیونکہ موجودہ حالات کا تقاضا ہی یہی ہے، انہوں نے کہا کہ سو سال بعد ہمیں اس موقع کیلئے پچھتانے کی بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور اگر ایسا ممکن ہوا تو آئندہ دس سال میں بہت سے اغراض و مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ مر و خواتین انسانیت کی بنیاد پر برابر اور ون یونٹ کے طور پر ہیں،اور ہم اپنی تہذیب اور ثقافت کے دائرے میں رہتے ہوئے خواتین کی آزادی کے حق میں ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم ایشو تھا جس کیلئے میں نے آنا ضروری سمجھا حالانکہ ڈاکٹروں نے مجھے ناسازی طبیعت کی وجہ سے آرام کا مشورہ دیا تھا ، انہوں نے اپنی عزت افزائی پر تقریب کے منتظمین کا بھی شکریہ ادا کیا۔