فاٹا انضمام کے معاملے پر 9اکتوبر کا مظاہرہ فیصلہ کن ثابت ہو گا، سردار حسین بابک

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے فاٹا کو صوبے میں فوری انضمام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے۔اور فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے جو انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات اٹھانا ضروری ہیں حکومت ان پر فوری عمل درآمد کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی میں مکمل نمائندگی کے لیے راہ ہموار ہو سکے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انگریز نے ملک فتح کیا اور اپنا قانون FCRلاگو کیا البتہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آزادی کے بعد اور انگریز کے یہاں سے جانے کے بعد اس کے کالے قانون کا کیا جواز باقی رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انفرادی دہشت گردی کے واقعات بلا شبہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ البتہ ان واقعات کو بنیاد بنا کر فاٹا کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد بلوچستان کے پختونوں کو یکجا کرنے کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا اور بعد ازاں شمالی و جنوبی پختونخوا کے درمیان پختونوں کو تقسیم کرنے والی لکیروں کا خاتمہ کرکے تمام پختونوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 9اکتوبر کو ہونے والے فاٹا مظاہرے میں اے این پی بھرپور شرکت کرے گی اور یہ مظاہرہ فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو گا ، سردار حسین بابک نے کہا کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اور اسے صوبے میں ضم کرنے کے سوا دوسرا کوئی آپشن نہیں۔ واحد راستہ یہی ہے کہ 2018ء کے الیکشن سے قبل قبائل کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کی اکثریت انضمام کے حق میں ہیں۔ لہٰذا اس میں اگر مگر کی پالیسی اختیار کرنے سے پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے جو انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات اٹھانا ضروری ہیں حکومت کی طرف سے ان پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی میں مکمل نمائندگی کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بروقت، آسان اور مناسب راستہ یہی ہے، فاٹا کے صوبے میں انضمام کے مسئلے پر مزیدتاخیری حربوں سے گریز کیا جائے۔