بڈھ بیر مریم زئی جلسہ

غلطی کی گنجائش نہیں ،خطہ تیسری عالمی جنگ کے دوراہے پر کھڑا ہے ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی امریکی پالیسی اور برکس اعلامیہ کے بعد خطے کی صورتحال مزید خطرناک ہو چکی ہے اور سپر پاورز نے اس سرزمین کو اپنے مفادات کی جنگ کیلئے آئیڈیل تصور کر لیا ہے جس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 4 میں ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران بڈھ بیر مریم زئی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے امیدوار خوشدل خان ایڈوکیٹ اور ارباب مجیب الرحمان نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ این اے 4میں اے این پی کی کامیابی یقینی ہے ،یہ حلقہ اے این پی کا ہے اور بیشتر بار یہاں سے پارٹی امیدوار کامیاب ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عوام کو محرومیوں اور تشنگیوں کے سوا کچھ نہیں دیا جس کے باعث صوبے کے عوام ان سے متنفر ہو چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ این اے4میں کامیابی کے بعد اس حلقے کی محرومیوں کو دور کرنا ہی اولیں ترجیح ہو گی،اپنے خطاب کے دوران خصوصی طور پر ڈاکٹر نجیب اللہ کی شہادت بارے بھی ذکر کیا اور کہا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ امن کے داعی تھے اور امن کے قیام اور ملک میں بیرونی مداخلت کے خاتمے کیلئے اقتدار کی قربانی دی اور جام شہادت نوش کیا ان کی قابلیت اور امن پسندی کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ڈاکٹر نجیب اللہ شہید کی برسی کے موقع پرجاریکردہ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ باچاخان ؒ سے بہت متاثر تھے اورامن کیلئے شہادت کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا، امن کیلئے ان کی کوششیں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر کے نقش قدم پر چلے بغیر اور ان کی قربانی کو مشعل راہ بنائے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا ، میاں افتخار حسین نے ڈاکٹر نجیب اللہ کی زندگی پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ شہید ڈاکٹر نجیب اللہ نے امن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے جس کے باعث ان کا نام تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی امن کی داعی جماعت ہے اور امن کیلئے پارٹی کے ارکان اسمبلی سمیت سینکڑوں کارکنوں نے جام شہادت نوش کیا ہے، انہوں نے کہا کہ امن اور ملک قوم کے دشمن عوامی نیشنل پارٹی کو اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں لیکن جب تک اے این پی کا ایک بھی کارکن زندہ ہے یہ دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے،انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نجیب اللہ نے قیام امن کی خاطر افغانستان کا اقتدار چھوڑا لیکن پختون روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی جان بچانے کیلئے سرزمین چھوڑنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب تین سپر پاورز امریکہ ، چین اور روس ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان ، ایران اور ہندوستان ایٹمی طاقت ہیں ، ایک ذرا سی غلطی سے خطہ تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ کشت و خون کی اس آگ کو مزید بھڑکنے سے روکنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کو اپنے تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کرنا ہونگے ، اسی طرح دونوں ملکوں کو خطے میں دیرپا امن کیلئے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کاروائی کرنا ہو گی اور اس مقصد کیلئے گڈ اور بیڈ کے چکر سے نکلنا ہو گا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر پاکستان اور افغانستان اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاورز کے مفادات کی بجائے قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر بنائیں تو بہت سی مشکلات آسان ہو جائینگی،انہوں نے کہا کہ چین کے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ تعلقات اچھے انداز میں چل رہے ہیں اور یہی وقت ہے کہ چین دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کے ساتھ ساتھ ضامن کا کردار بھی ادا کرے ،انہوں نے کہا کہ حالات مزید سنگین ہوئے تو ورنہ پوری دنیا تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی ۔