سوات میں جلسہ

صوبائی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ، سوات میں قیام امن اے این پی کا تاریخی کارنامہ ہے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سوات میں امن کے قیام کا سہرا اے این پی کے سر ہے اور اس امن کیلئے اے این پی نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں جنہیں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے80مکان باغ سوات میں ایک بڑے اور عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں حکومت نہیں بلکہ جہاد کیا تھا ، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور ایک ہزار سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کی قربانی دی تاکہ صوبے کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں ، انہوں نے کہا کہ سوات آپریشن کے بعد جو آئی ڈی پیز نکل مکانی کر گئے ان کی جلد اور باعزت گھروں کو واپسی ممکن بنائی اور ان کی عزت نفس مجروح نہیں ہونے دی ، اسی طرحسیلاب کی صورتحال کا سامن بھی کرنا پڑا لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری اور تمام حالات کا مقابلہ کیا ، انہوں نے کہا کہ آج سوات میں جو امن قائم ہے اس کا سہرا اے این پی کے سر ہے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ منگورہ کا بائی پاس بنا کر علاقے کو تباہی سے بچایا اور تعلیمی اداروں کا قیام ممکن بنایا تاکہ عوام کو دوسرے شہر جا کر صعوبتیں برداشت کرنے سے نجات مل سکے،جبکہ سوات میں بچوں اور بچیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ چار سال میں خیبر پختونخوا کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، اور جتنے قرضے اس حکومت نے لئے ہیں صوبے کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ، انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو جھوٹے وعدوں سے ورغلایا گیا تاہم پی ٹی آئی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ،2018کے انتخابات میں تبدیلی والوں کو اپنے قد کاٹھ کا اندازہ ہوجائے گا۔ امیر حیدر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پختونوں سے ووٹ لے کر پنجاب کی سیاست کی جا رہی ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام اور اُن کے مسائل کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب کے اورنج اورمیٹرو ٹرین سے خیبرپختون خوا کے غریب بچوں کو کوئی فائدہ نہیں ،مسائل اور مصائب سے نکلنے کے لئے پختونوں میں قوم پرستی کا جذبہ بیدار کرناہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے شعبہ کو تباہ کر دیا ہے اور اب محکمہ تعلیم بھی وینٹی لیٹر پر ہے ، سرکاری کالجوں کی نجکاری کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے ، صوبائی صدر نے کہا کہ حکومت نے اپنے دور میں مفاد عامہ سے غافل رہی اور عوام کیلئے کوئی بھی میگا پراجیکٹ شروع کرنے کی بجائے ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگاتی رہی ۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء کے انتخابات میں اے این پی کا مینڈیٹ چوری کیاگیالیکن اب پختون قوم بیدار ہوچکی ہے اورآئندہ انتخابات میں وہ اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو ووٹ کے ذریعے مسترد کر دے گی۔