سیاسی قیادت بُردباری کا مظاہرہ کرے ،ملک مزید مارشل لاء کا متحمل نہیں ہو سکتا، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیاسی قیادت کو صبر و تحمل اور بر دباری کا مظاہرہ کرنا ہو گا، سیاستدانوں کی جانب سے ذرا سی غلطی سے بوٹوں کی چاپ سنائی دینے لگے گی ،بین الاقوامی صورتحال ہم سے پُر اثر قومی بیانیہ کی متقاضی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکبر پورہ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں سے درجنوں افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں شمولیت پر مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ ملک کسی غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا ، جمہوریت کی بقاء کیلئے سب کو مدبرانہ سوچ اپنانا ہو گی ،انہوں نے کہا کہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی صورت میں پارلیمنٹ کا وقار بلند ہو گا اور اس مقصد کیلئے تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے ، اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی سے سب سے زیادہ نقصان ملک کو ہوگا لہٰذا تمام سیاستدانوں کو اپنے فیصلے پارلیمنٹ کے اندر کرنا چاہئں ۔ ٹکراؤ کی صورتحال سے بچنے کیلئے کسی ادارے کو کسی دوسرے ادارے کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ جمہوریت کی بقا کیلئے قربانی دی ہے اور کبھی کسی غیر آئینی قوت کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اب اب بھی ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں جمہوریت ڈی ریل ہوئی تو ملک و قوم دونوں کو نقصان ہوگا،بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چار میں سے تین ہمسایوں کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہیں جبکہ اب چین کارویہ میں بھی تبدیل دکھائی دینے لگا ہے ، انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کی ناکام پالیسیاں تبدیل نہیں کی جاتیں تب تک خطے کی صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو اپنی پالیسیاں قومی مفاد میں بنانی چاہئیں ،سپر پاورز کے درمیان مفادات کی جنگ کا اثر ہمارے خطے پر پڑ رہا ہے اور اسی کے نتیجے میں ہزاروں قیمتی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کن مرحلہ مرحلہ ہے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اور افغانستان سپر پاورز کے مفادات کیلئے بنائی گئی پالیسیوں کو ختم کر دیں ، انہوں نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں پختونوں کے اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تمام پارٹی کارکن اور پختون آپس کے اختلافات ختم کرکے متحد ہو جائیں۔