خطے میں محاذ آرائی کے خاتمے سے کسی بیرونی دباؤ کے لئے گنجائش نہیں رہیگی، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختونوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کیلئے یہ قربانیں مشعل راہ ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نیباچا خان مرکز میں پارٹی کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہر سال عید پر مجھے پولیس کی جانب سے سرگرمیاں محدود کرنے کی غرض سے الرٹ جا ری کر دیا جاتا ہے جس کے باعث میں عید کی نماز کیلئے مسجد تک نہیں جا سکتا ، تاہم کارکنوں کے ساتھ دل و جان کا رشتہ ہے اور میں لوگوں سے میل جول اور ناطہ توڑ نہیں سکتا ، انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے تاہم احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ کارکنوں کے درمیان موجود رہوں گا،انہوں نے کہا کہ گزشتہ عید پر بھی پولیس کی جانب سے سیکورٹی الرٹ کیلئے خط موصول ہوا تھا تاہم اس پر کسی قسم کا حوالہ یا تاریخ درج نہیں تھی جس سے ابہام پیدا ہوا اور اس حوالے سے پولیس کو آگاہ بھی کیا گیا،انہوں نے فریضہ حج اور سنت ابراہیمی کی سعادت حاصل کرنے والے تمام حجاج کرام اور عوام کو عید الاضحٰی کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ دین اسلام ہمیں قربانی کے درس کے ساتھ ساتھ صبر و تحمل اور ایثار کا درس دیتا ہے،انہوں نے کہا کہ عید خوشیوں کا پیغام لے کر آتی ہے تاہم ہمارے ملک اور خطے کی صورتحال اس قدر پریشان کن ہے کہ عید کی خوشیاں بھی ماند پر جاتی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی اور بین الاقوامی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ صبر اور تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا جائے ، ملک حالت جنگ میں ہے اور ایسی صورتحال میں سب سے پہلے حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہئے ، اے این پی روز اوّل سے پاکستان کے لئے ایک آزاد خارجہ پالیسی کی حامی رہی ہے۔ 1980 کی دہائی میں جب اس خطے میں جہاد کے نام پر بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لئے فساد رچایا تو ہم نے اس وقت بھی اس کی مخالفت کی تھی آج بھی ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک مل کر فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں، انہوں نے کہا کہ خطے کے اندر محاذ آرائی کا خاتمہ کرنے سے جہاں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا وہاں کسی بیرونی دباؤ کے لئے گنجائش نہیں رہیگی، ،انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پختونوں کا اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے اور اگر پختون آپس میں متحد ہو جائیں تو کوئی ان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔