حکومت کی الٹی گنتی جاری ہے ،تبدیلی آئندہ الیکشن میں سونامی کی نذر ہو جائیگی ،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ تبدیلی کی الٹی گنتی جاری ہے اور آئندہ عام انتخابات میں عوام جھوٹے وعدے کرنے والوں کا صفایا کر دیں گے ، خیبر پختونخوا مسائل کی دلدل میں گھر چکا ہے جبکہ اربوں روپے کے اشتہارات صرف اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے جاری کئے جا رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12خٹک نامہ جڑوبہ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر عثمان کاکا ،سید امیر ، سہیل خان اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں 60کے قریب افراد نے پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اپننے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آئے روز عوام کی اے این پی میں جوق در جوق شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اب پی ٹی آئی کی پالیسیوں سے متنفر ہو چکے ہیں اور وہ اے این پی کو ہی اپنے حقوق کی محافظ جماعت تصور کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ صوبے کو مالی و انتظامی طور پر بدحال کر دیا گیا ہے جبکہ تمام محکمے مفلوج ہو چکے ہیں، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو جس طرح روندا گیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ،اور یہ واحد حکومت ہے جس میں سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ اعلیٰ افسران بھی پہلی بار اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر آئے ، انہوں نے کہا کہ حکومت چار سال گزرنے کے باوجود کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکی اور اب رخصتی سے قبل اپنی گری ہوئی ساکھ کو بچانے کیلئے اربوں روپے کے اشتہارات جاری کئے جا رہے ہیں،کہ عوام اب سونامی اور تبدیلی سے متنفر ہوچکے ہیں اور وہ اے این پی کی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کہ پی ٹی آئی کی چار سالہ حکومت نے ان کا پول کھول دیا ہے ،صوبائی حکومت اخباری بیانات کے علاوہ کچھ کرنے کے قابل نہیں،ڈینگی وائرس مزید بے قابو ہو چکا ہے اور آئے روز ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی عوام کے مرنے کا انتظار کر رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور حکمران اس انسانی جانوں کو بچانے کی بجائے اسے انا کا مسئلہ بنا کر چپ سادھے ہوئے ہیں،اُنہوں نے کہا کہ اسفندیارولی خان کی قائدانہ صلاحیتوں اور سیاسی تدبر کی وجہ سے اے این پی نے گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں جو تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ باچاخانؒ اور خان عبدالولی خان کے ارمانوں کی تکمیل تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے جی پی فنڈز اور پنشن سے فنڈ حاصل کرکے صوبے کو چلایا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے تقریباً چارسالہ حکومت میں خزانہ خالی کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کی سیاست کے خاتمے کا خواب دیکھنے والے جان لیں کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت پہلی اور آخری مرتبہ آئی ہے۔ عمران خان وزیر اعظم بننے کیلئے پنجاب کی سیاست کر رہے ہیں اور اُن کو صوبے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی فاٹا کے صوبے میں انضمام کے اپنے مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور مرکزی حکومت جلا از جلد اس اہم قومی ایشو پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فاٹا کو صوبے کرنے کا اعلان کرے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی9اکتوبر کو فاٹا کے مظاہرے اور لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کرے گی۔