اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کو محکمہ پولیس کی جانب سے الرٹ جاری

گزشتہ عید پر ملنے والے اور حالیہ خط کے مضمون میں مماثلت، تحفظات کے بعد اس بار ریفرنس نمبر اور تاریخ کا اندراج کیا گیا ہے۔
* خط میں پارٹی رہنما کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کا کہا گیا ہے ، جان و مال کی حفاظت ہر شہری کا حق ہے ، احتیاط مد نظر رکھی جائے گی۔
* باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد کے علمبردار ہیں او پاکستان سمیت دُنیا بھر سے دہشتگردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے متلاشی ہیں ،مشترکہ بیان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی تحصیل پبی کے صدر زر علی خان ، جنرل سیکرٹری ضیاقت اور سیکرٹری اطلاعات عباس خان نے محکمہ پولیس کی جانب سے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کو ایک بارپھر اس عید پر الرٹ جاری کرنے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ عید پر میاں افتخار حسین کواس قسم کا تحفہ ضرور دیا جاتا ہے تاہم انہوں نے گزشتہ اور حالیہ خطوظ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے گزشتہ عید پر لکھے جانے والے خط پر ریفرنس نمبر یا تاریخ کا اندراج نہیں تھا البتہ دونوں خطوط کی تحریر میں کوئی فرق نہیں ،جس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھاکیونکہ اُس خط میں یہ واضح ہی نہیں تھا کہ کس کی جانب سے لکھا گیا ہے ، البتہ اس بار اپنے تحفظات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ، انہوں نے کہا کہ اپنی جان و مال کا تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے لہٰذا امید ہے میاں افتخار حسین عید پر اپنی تمام مصروفیات محدود رکھیں گے۔، انہوں نے کہا کہ ہم پچیس برس سے دہشتگردی کے نتائج اور اثرات بھگتتے آرہے ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی بار بار ایک مطالبہ کرتی ہے کہ پنجاب میں دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز اور منظم کاروائی ہونی چاہئے،انہوں نے کہا کہ پنجاب دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ رہا ہے اور ان کا خاتمہ کیے بغیر امن و امان کی بحالی اور دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حکومت اور بعض قوتوں نے وقتی فائدے اور خطرہ ٹالنے کیلئے پنجاب میں مصلحت سے کام لیا۔
اُنہوں نے کہا کہ منظم طریقے سے گڈ اور بیڈ کا امتیاز کیے بغیر کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں اور مزید تاخیر یا مصلحت انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد کے علمبردار ہیں اور ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ پاکستان سمیت دُنیا بھر سے دہشتگردی اور شدت پسندی کا خاتمہ ہو۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں موجود 70کالعدم تنظیموں پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیوں کیا جا رہا ہے ، رہنماؤں نے کہا کہ ملکی پالیسیا ں غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کی بجائے قومی مفاد میں بنائی جائیں اور خطے میں دائمی امن کی خاطرنیشنل ایکشن پلان پر دوبارہ نظر ثانی کر کے قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔