پریس کانفرنس

 الیکشن کمیشن این اے 4میں سیاسی رشوت اور سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کا نوٹس لے ،امیر حیدر خان ہوتی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے این اے 4میں مرکزی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے سرکاری مشینری کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور سرکاری وسائل کو انتخابی مہم کیلئے استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرے ، باچا خان مرکز میں اے این پی کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پوسٹرز کے سائز کا تو نوٹس لیا ہے البتہ وہاں ترقیاتی منصوبے سیاسی رشوت کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں اور مرکزی و صوبائی حکومتیں انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کو ضابطہ اخلاق کی پابند بنائے ۔امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ این اے 4اے این پی کا گڑھ ہے اور یہاں سے متعدد بار پارٹی امیدوار کامیاب ہوتے رہے ہیں جبکہ اس بار بھی اے این پی کے امیدوار کی کامیابی یقینی ہے ، فاٹا انضمام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے اس حوالے سے پختونوں اور قبائلی عوام کے ساتھ وعدہ خلافی کی اور ایک انتہائی آسان کام کو مشکل بنا دیا گیا جس کے بعد وہ متنازعہ ہو گیا ، لیکن موجودہ مرکزی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے دلچسپی ظاہر کی گئی تاہم تب سے اب تک مسلسل خاموشی چھائی ہوئی ہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا موجودہ وقت کا اہم تقاضا ہے ، امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ فاٹا پارلیمنٹرینز اور قبائلی عوام کی جانب سے 9اکتوبر کے پرامن مظاہرے اور لانگ مارچ میں بھرپور شرکت کی جائیگی،اور اس حوالے سے پارٹی کی تمام قبائلی تنظیموں بشمول ایف آرز کو ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں،نہوں نے ایک بار پھر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے میں جلد از جلد ضم کرنے کا اعلان کرے تاکہ قبائلی عوام بھی بنیادی انسانی ضروریات سے مستفید ہو سکیں۔صوبے میں ڈینگی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت نے ڈینگی کی وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا جس کی وجہ سے اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ پنجاب سے آنے والی امداد کو بھی سیاسی انا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ،انہوں نے کہا کہ ڈینگی کو ابتدائی مراحل میں آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی داد رسی کیلئے کوئی حکومتی نمائندہ موجود نہیں اور نہ ہی ڈینگی سے بچاؤ کیلئے موجود غیر مؤثر ادویات اس قابل ہیں کہ مریضوں کو اس سے بچایا جا سکے جس کی وجہ سے اس نے وبا کی صورت اختیار کر لی ہے ، انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین سڑکوں پر حکومتی غفلت کے خلاف مطاہرے کر رہے ہیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ لواحقین کو مالی امداد دی جائے تاکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھی جا سکے ، امیر حیدر خان ہوتی نے ایک سوال کے جواب میں کہا صوبائی حکومت اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر زیرو ہو چکی ہے صوبے کو مالی و انتظامی بنیادوں پر کھوکھلا کر دیا گیا ہے ، مجوزہ تعلیمی ایکٹ کی صورت میں سرکاری سکولوں کو تالے لگانے کی سازش کی جا رہی ہے اور اے این پی اس کی بھرپور مخالفت کرے گی، انہوں نے کہا کہ حکومت اساتذہ کے حوالے سے ایسی قانون سازی سے گریز کرے جس کے منفی اثرات نظر آ رہے ہوں ، انہوں نے کہا کہ صوبے کو تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور حکومت کو تجربوں کی بجائے نظام میں تبدیلی لانا چاہئے ،عمران خان کے قبل از وقت انتخبات کے مطالبہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حومت کو اپنی معیاد پوری کرنی چاہئے اور جن ارکان اسمبلی کو ان کے حلقوں کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے انہیں مقررہ معیاد تک حکومت کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمران خان کو الیکشن کیلئے اتنی جلدی کیوں ہے جبکہ ان کی اپنی صوبائی حکومت کے کئی منصوبے ابھی شروع بھی نہیں ہوئے ، تنظیمی امور کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2جنوری 2018سے صوبے بھر میں بڑے جلسہ عام کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جبکہ آئندہ الیکشن کیلئے موصول ہونے والی درخواستوں کی سکروٹنی کے بعد امیدواروں کا اعلان مرحلہ وار کر دیا جائے گا۔