گڈ گورننس کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں، تمام محکمے نا انصافیوں کی زد میں ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے میں گڈ گورننس کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ صرف عوام کو ورغلانے کا ایک نیا حربہ ہے ، معاشرے کی نا انصافیوں کی جھلک ہر طرف دکھائی دے رہی ہے ،تعلیم ،صحت اور پولیس کے محکمے زبوں حالی کا شکار ہیں جبکہ صوبے کے تمام افسران کو مضطرب کر کے دیگر صوبوں سے افسران یہاں لائے جا رہے ہیں جو خیبر پختونخوا کے ماحول سے مکمل طور پر نابلد ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12ڈاگ اسماعیل خیل میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئےء کیا ، اس موقع پر اہم سیاسی شخصیات اور درجنوں افراد نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دعوے سمجھ سے بالاتر ہیں جبکہ ایک ماہ قبل وہ خود اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ الیکشن کی آمد سے قبل ایک بار پھر عوام کو ورغلانے کیلئے غلط اور جھوٹے دعوے کئے جا رہے ہیں،تعلیمی ایمرجنسی کا پول میٹرک کے نتائج نے کھول دیا جبکہ میٹرک کے بعد تعلیم حاصل کرنے والوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور زر کی کنجی سے اسے کھولنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے پولیس کی خصوصی تربیت پر توجہ دی اور اہلکاروں کی تعداد40ہزار سے بڑھا کرتقریباً 80ہزار کر دی گئی،اور ساتھ ہی ان کی تنخواہوں میں بھی مشترکہ طور پر دوگنا اضافہ کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں ان کی تنخواہ میں مزید اضافہ بھی کیا، انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کیلئے وسائل کی ضرورت تھی تاہم دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کیلئے ہم نے یہ گھونٹ پیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں پولیس جوانوں کی تربیت فوجی انداز میں کرائی جبکہ شہداء پیکج 3لاکھ سے بڑھا کر30لاکھ کر دیا گیا، دوران ملازمت شہید ہونے والے اہلکاروں کے بچوں کو نوکریاں دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ بھی ریٹائرمنٹ تک ان کے لواحقین کو ملتی رہی ، انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تھانوں کو مضبوط بنایا گیا تاکہ وہ دہشتگردوں کے مذموم حملوں سے محفوظ رہ سکیں،انہوں نے کہا کہ آج پولیس کو سیاسی بنا دیا گیا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ہزاروں اہلکاروں کو ’’اِدھر اُدھر‘‘ کر دیا گیا،موجودہ صوبائی حکومت تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے جس کا واضح ثبوت اے این پی میں ہونے والی آئے روز شمولیتیں ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام تبدیلی کے نعرے سے تنگ آچکے ہیں اور عمران خان کے غیر پالیمانی طرز سیاست کی وجہ سے لوگ ان سے متنفر ہو گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین احترام سے مبرا ہیں اور تمام سیاستدانوں کو بے عزتی کرنا معمول بنا لیا ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن اور لوٹ مار کے خاتمے کے دعوے کرنے والوں نے احتساب کمیشن کو صرف سیاسی مخالفین کیلئے استعمال کیا اور اب اپنے وزراء اور ارکان اسمبلی کو نیب سے بچا نے کیلئے احتساب ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ امن قائم کرنے کے دعویدار یاد رکھیں یہ امن نہیں بلکہ دہشت گردوں کے ساتھ مک مکا ہے جبکہ اے این پی کو صرف اس لئے ٹارگٹ کیا جاتا رہا کیونکہ وہ نظریاتی طور پر دہشت گردی کے خلاف تھی، انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں عوام دہشت گردوں کے دوستوں کو نہیں بلکہ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اے این پی کو کامیاب کریں گے ۔