عوامی نیشنل پارٹی کی کوئٹہ بم دھماکے کی مذمت ، امن پسندی کی سزا دی جا رہی ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کوئٹہ میں اے این پی کے قافلے پر بم دھماکے اور اسلام آباد میں صحافی پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف اے این پی کو اس کی جمہوریت پسندی اور امن پسندی کی سزا دی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب صحافت کا گلا گھونٹنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں،اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی رہنما عبدالرازق اپنے بھائی عبدالخالق کے ہمراہ پشین جلسہ میں شرکت کیلئے جا رہے تھے جنہیں راستے میں بم دھماکے سے ٹارگٹ کر کے اے این پی کو پیغام دیا گیا تاہم ہم جھکنے والے نہیں اور باچا خان کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ، انہوں نے سانحے میں شہید ہونے والوں کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہ دہشت گرد ہماری ہمت توڑ کر اس ملک پر اپنا راج چاہتے ہیں لیکن ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور اس ناسور کے خلاف جہاد جاری رہے گا اور دہشت گردوں کے خلاف جو کوئی بھی کاروائی کرے گا اے این پی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں جس طرح دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی وہ تاریخ کا انمٹ باب ہے اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی آج تک دہشت گردوں کے ٹارگٹ پر ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے پی ایس سانحہ کے بعد عسکری ، سیاسی اور مذہبی قیادت ایک 20نکاتی دستاویز پر متفق ہوئیں لیکن اس کے تمام نکات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بار بار لاشیں اٹھانا پڑیں،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی سب کچھ بھول کر اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں جس سے دہشت گردوں کیلئے راہ ہموار ہوئی حکمرانوں کیلئے دہشت گردی اور بد امنی کا خاتمہ ترجیح نہیں رہا ، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کیا جائے تو دہشت گردی سے نجات ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لےے ہماری سرزمین استعمال کرکے ہم پر 40سال تک جنگیں مسلط کیں جبکہ نائن الیون کے بعد سے آج تک امن کے قیام کے لےے سنجیدہ کوششیں نظر انداز کی گئیں جس کے باعث پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آیا اور اب ایک بار پھر افغانستان اور پاکستان کی پشتون سرزمین کو عالمی اور علاقائی قوتوں کی آپس کی لڑائی کے لےے میدان جنگ میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محسوس یہ ہو رہا ہے جیسے بڑی طاقتےں ہمارا گھیراؤ کرنے کے لےے اکھٹی ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے امن کے لےے لازمی ہے کہ پاکستان اور افغانستان مشترکہ لائحہ عمل اختےار کرکے اتحاد سازی اور بہترےن تعلقات کا آغاز کریں تاکہ خطے کو پھر سے عالمی اکھاڑا بننے سے بچاےا جائے اور پشتونوں پر مسلط کی گئی جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ میاں افتخار حسین نے اسلام آباد میں صحافی احمد نورانی پر قاتلانہ حملے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ مخصوص مائنڈ سیٹ صحافت کا گلا گھونٹنے کیلئے صحافیوں کو ٹارگٹ کر رہا ہے صحافت انسانی جسم میں روح کے مترادف ہے اور جب روح انسانی جسم سے نکل جائے تو جسم مردہ ہو جاتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی مجروح صحافی کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافی پر حملہ کرنے والے عناصر کو گرفتار کر کے قانون کی گرفت میں لایا جائے،میاں افتخار حسین نے پشین میں شہید ہونے والوں کی مغفرت اور لواحقین کے صبر جمیل جبکہ احمد نورانی کی جلد صحت یابی کیلئے دعاکی۔