عمران خان خاص قوتوں کا مہرہ اور اشتہاری ہونے کے باوجود آزاد ہے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھیوں کی جانب سے امن کے قیام کے دعووں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں ایسا امن ہے جس کیلئے حکمرانوں نے دہشت گردوں کی منت سماجت کی ہوئی ہے اور اسی کا صلہ انہیں دفتر کھول کر دیا جانا تھا ، کوہ دامان میں این اے4کے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتوں نے خیبر پختونخوا کے عوام شدید نقصان پہنچایا اور ان کے حقوق پر سودے بازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، نواز شریف نے جو وعدے کئے وہ ان سے مکر گئے جبکہ صوبے کے حکمران پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کا کندھا استعمال کر رہے ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بتائیں کبھی کسی دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا یا کسی شہید یا زخمیوں کی عیادت کیلئے بھی گئے ؟ انہوں نے کہا کہ اے این پی نظریاتی جماعت ہے اور دہشت گردی کے خلاف چٹان کی طرح کھڑی رہی جس کی وجہ سے ہمارے رہنماو¿ں کو ٹارگٹ کیا جا تا رہا ،انہوں نے کہا کہ عمران خان آج قومی رہنماو¿ں پر الزامات لگا رہے ہیں حالانکہ وہ خود عدالتوں سے اشتہاری ہیں اور کرپشن کے مقدمات میں پیشیاں بھگت رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ تعجب کی بات یہ ہے کہ احتساب عدالت میں وزیر داخلہ کو تو روکا جا سکتا ہے لیکن عمران خان کو کسی بھی جگہ جانے سے نہیں روکا جاتا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی خاص قوت کا مہرہ ہیں اور انہیں صرف استعمال کیا جا رہا ہے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تاریخ کی ایک معتبر سیاسی تحریک کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے پہلے عمران خان اپنے اباءو اجداد کے کردار پر نظر ڈالےں۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلے کرپشن کے الزام میں جن افراد کو نکالا گیا ان میں عمران کے والد بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے باپ دادا نے اس ملک کو غلامی سے نجات دلانے اور اس کی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں جن سے عمران خان نابلد ہے۔ نئی نسل میں گالی گلوچ کا کلچر متعارف کرانے والے شخص کی سیاست بداخلاقی پر مبنی ہے اور ملک کی پارلیمانی روایات کے مطابق گٹھیا زبان استعمال کرنے والا شخص سیاستدان نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ایک ایسی جماعت ہے جس کی پاکیزگی نظریے اور اصولوں کی دنیا معترف ہے جبکہ عمران خان اسی ملک کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں جس کا 73کا آئین خان عبدالولی خان کی مرہون منت ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے رہنماﺅں کو گالی دینے والے پاکستان کی تاریخ اور جغرافیے کا مطالعہ کریں۔ گالی کا جواب گالی سے ہم بھی دے سکتے ہیں لیکن ہماری اخلاقیات اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔