سیاسی جماعتیں محاذآرائی سے گریز کریں،پانامہ پیپرز میں شامل تمام افراد کا بلاتفریق احتساب کیا جائے، اسفندیار ولی خان

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پانامہ پیپرز میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان سب کا احتساب کیا جانا چاہئے ،عمران خان تخت اسلام آباد کیلئے کوششیں کرتے رہے صوبے کے مسائل پر ساڑھے چار سال تک کوئی توجہ نہیں دی گئی ، ہم پر تنقید کرنے والے صرف اپوزیشن لیڈر کی ایک کرسی کے لیے اس ایم کیو ایم کی گود میں جا بیٹھے جس کی مخالفت میں وہ آخری حد تک جا چکے تھے اور ایم کیو ایم کے خلاف لندن کی عدالتوں تک کیس کرنے کی دعوے کیے جاتے تھے، احتساب عدالت کا واقعہ قابل مذمت ہے، ن لیگ نے اپنے کارکنوں کو کنٹرول نہ کیا تو نقصان جمہوریت کا ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 4کے انتخابی مہم کے سلسلے میںچمکنی میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، سرکاری خزانہ خالی ہے اور حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں کے لیے مالیاتی اداروں سے اتنا قرضہ لیا ہے جو صوبے کی تاریخ میں کسی بھی حکومت نے نہیں لیا۔ انہوںنے کہا کہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان قرضوں کو چکانے کے لیے آنے والی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کہ صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو صوبے سے کوئی غرض نہیںاور صرف ایک وزارت اور کرسی اقتدار کے لیے کسی بھی پارٹی سے غداری کر سکتے ہیں۔ عمران خان کے قومی رہنماو¿ں کے خلاف بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کپتان پارلیمانی سیاست سے نابلد ہیں،سیاست ان کا شعبہ ہی نہیں تھا افسوس انہوںنے پاکستان کی نوجوان نسل میں گالم گلوچ کی سیاست متعارف کرائی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ولی خان سے صوبے کے حوالے سے وعدہ کرکے مکر گئے تھے تو انہیں جدہ بھاگنے کی ضرورت پڑی اور اس مرتبہ انہوں نے پختونوں کے ساتھ سی پیک پر وعدہ خلافی کی تو پختونوں کی بدعاﺅں کی بدولت انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک بلا شبہ گیم چینجر منصوبہ ہے تاہم مرکزی و صوبائی حکومت یہ بتائے کہ سی پیک میں پختونخوا کا کتنا حصہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ سی پیک میں ایک سڑک باجوڑ اور قبائلی علاقوںسے ہوتی ہوئی جنڈولہ تک اور پھر ژوب تک جائے اور اس میں دیر اور چترال کو بھی سی پیک کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ مغربی اکنامک کوریڈور میں انڈسٹرئیل زون کہاں واقع ہے؟ کئی بار اس حوالے سے پوچھا گیا لیکن کوئی نہیں بتا رہا۔ ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک بات واضح ہو جانی چاہئے کہ اداروں کے درمیان محاذ آرائی کسی کے مفاد میں نہیں، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کی طرف سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت میں گزشتہ روز وکلاءکی جانب سے جو ہلڑ بازی کی گئی وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ ن لیگ نے اگر اپنے کارکنوں کو کنٹرول نہ کیا تو اس سے جمہوریت کو نقصان ہوگا اور اس کا فائدہ کسی سیاسی جماعت کو نہیں ہوگا۔ مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان محاذ آرائی کی صورتحال کے خاتمے کیلئے غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا،اور دونوں ملکوں کو اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کرنا ہونگے، فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے فاٹا انضمام کو امریکی سازش قرار دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت امریکی ایما پر فاٹا کا انضمام چاہتی ہے تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا صاحب خود اسی حکومت کا حصہ ہیں، انہوں نے کہا کہ کہ ہم پختونوں کی وحدت پر یقین رکھتے ہیں اور ان کو آپس میں ایک پلیٹ فارا پر متحد کرنا چاہتے ہیں ج، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ انگریز کی کھینچی گئی لکیر مٹا کر فاٹا کے بعد شمالی و جنوبی پختونخوا کو ایک ملائیں گے،انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا لیکن 26اکتوبر کے ضمنی الیکشن اور آئندہ عام انتخابات میں اپنا منڈیٹ واپس حاصل کریں گے، انہوں نے کہا کہ این اے4میں مرکزی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ضمنی الیکشن میں ہماری کامیابی یقینی ہے اور خوشدل خان ایڈوکیٹ کو اسمبلی میں پہنچا کر یہ ثابت کریں گے کہ این اے 4 باچا خان کے پیروکاروں کا حلقہ ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ رابطہ عوام مہم میں مزید تیزی لائیں۔