سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی کا نتیجہ آمریت کی صورت میں سامنے آئیگا،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان رسہ کشی سے جمہوریت ڈی ریل ہونے کی فضاء بنتی جا رہی ہے ، اور اگر ایسا ہوا تو سب سے زیادہ نقصان اس ملک کو ہوگا،حکومت فاٹا کے مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ، فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کیلئے اس سے آئیدیل ٹائمنگ نہیں ہو سکتی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں جے یو آئی ( س ) کے قبائلی جرگہ اور قومی کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک بھی ان کے ہمراہ تھے ، کانفرنس سے خطاب میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی کے صدر اسفندیار ولی خان کی جانب سے فاٹا کے اہم ایشو پر اے پی سی کے انعقاد کے بعدجے یو آئی کی کاوش خوش آئند ہے اور اس کوشش سے تمام سیاسی جماعتوں کو متفق کرنے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق نے اے این پی کی اے پی سی میں شرکت کی اور ہم مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں اس قبائلی جرگہ میں شرکت کی دعوت دی،انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگ فاٹا کے صوبے مین انضمام پر متفق ہو رہے ہیں،میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو فوری طور پر صوبے میں ضم کیا جائے ،ایف سی آر کا خاتمہ کر کے اسے باضابطہ عدالتی دائرہ اختیار میں لایا جائے ، قبائلی عوام کو آئینی، قانونی اور انسانی حقوق دیئے جائیں، فاٹا کی ترقی کیلئے دس سالہ ترقیاتی پیکج دیا جائے اور صوبائی اسمبلی میں اسے باضابطہ نمائندگی دی جائے،انہوں نے کہا کہ یہ وہ نکات ہیں جن پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں ہم فاٹا اصلاحات پر جلد از جلد عمل درآمد کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں اور 9اکتوبر کے مظاہرے میں بھرپور شرکت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، انہوں نے کہا کہ آج سیاسی فضا مکدر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ، سیاسی جماعتوں کے بیچ پارلیمنٹ کے اندر دھینگا مشتی جاری ہے جس سے پارلیمنٹ اپنی قدر منزلت کھو رہی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ قبل از وقت انتخابات کی باتیں بھی جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش ہے ، اے این پی نے تحفظات کے باوجود خیبر پختونخوا میں حکومت کا مینڈیٹ تسلیم کیا لہٰذا پی ٹی آئی بھی مرکزی حکومت کا مینڈیٹ تسلیم کرے اور اسے اپنی مقررہ مدت پوری کرنے دے ، انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف یا مسلم لیگ کے حامی نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ ہیں، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی صورتحال میں جن مسائل کا سمان ہے اس مین قومی بیانیہ دنیا کے سامنے پپیش کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی مضبوطی ضروری ہے ، تمام آئنی ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں اور کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کے کام میں مداخلت نہ کرے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں،
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی پالیسی اور برکس اعلامیہ کے بعد امن کو مزید خطرات لاحق ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خطے میں تین سپر پاورز اور تین ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف نبو آزما ہیں ، انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں پاکستان اور افغانستان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، دونوں ملکوں کو ہوش سے کام لیتے ہوئے اپنے مسائل باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ دونوں ملک پہلی فرصت میں اپنی ناکام داخلہ اور خارجہ پالیسیاں از سر نو ترتیب دیں اور انہیں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد کو مد نظر رکھ کو بنائیں، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی سطح پر ملک کو اس کا بنیادی حق ملے اسی طرح فاٹا کے عوام کو بھی ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں،انہوں نے کہا کہ ملک کی عسکری قیادت ، سیاسی جماعتیں اور قبائلی عوام کے ساتھ ساتھ تمام مکتبہ فکر کے لوگ فاٹا کے صوبے میں انضمام پر متفق ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے ؟انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی فاٹا انضمام کے ھق میں ہے اور اس کیلئے اپنی سرٹوڑ کوششیں جاری رکھے گی۔