دہشت گردوں کے حمایت یافتہ سیاسی موت مر چکے،2018میں کوئی حکیم اللہ محسود نہیں آئے گا، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے حمایت یافتہ سیاسی موت مر چکے ہیں اور عوام کے حقوق پر سودے بازی کرنے والے اب دوبارہ کبھی اقتدار میں نہیں آ سکتے ، فاٹا کے معاملے پر حکومتی خاموشی سے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں، اے این پی سی پیک کے معاملے پر اپنے مؤقف پر قائم ہے اور پختونوں کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12پبی میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی کی انتہائی اہم اور سرکردہ شخصیات محفوظ جان اور حفیظ جان نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی، میاں افتخار حسین نے وزیر اعظم اور قبائلی مشران کے درمیان فاٹا معاملے پرمذاکرات کے نتیجے میں مطالبات تسلیم ہونے کے دعوے کو اعلامیہ کی صورت میں سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت نے جو مطالبات تسلیم کئے ہیں ان کا نوٹیفیکیشن جلد از جلد عوام کے سامنے لایا جائے کیونکہ اس حوالے سے عوام میں تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ انگریز کے جانے کے بعد اُس کے لاگو کردہ قانون کا کوئی جواز نہیں بنتا ،سی پیک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چین نے اس روٹ کو اس لئے اہمیت دی تا کہ انتہا پسندی سے متاثرہ اور پسماندہ رہ جانے والے علاقوں کو ترقیافتہ علاقوں کے برابر لا یا جا سکے ، لیکن وفاقی حکومت نے پختونخوا کو اس سے باہر کر کے پنجاب کو فوقیت دی ،انہوں نے کہا کہ چائنہ پاک اقتصادی راہداری منصوبہ پختونوں کی ترقی کا منصوبہ ہے ، اور ر اس کے مغربی روٹ کے حوالے سے تمام کریڈٹ اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان کے سر ہے ،مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ نواز شریف نے مغربی روٹ کے حوالے سے یقین دہانی کرائی تھی کہ ایشیائی ترقیاتی بنک سے قرضہ لے کر اس روٹ کی تعمیر شروع کی جائے گی ، تاہم وہ وعدہ خلافی کر کے اپنے وعدوں سے مکر گئے،ہمیں صرف اس مکمل مغربی اکنامک کوریڈور کی تعمیر چاہئے جو اس خطے میں بسنے والے پختونوں کا جائز حق ہے کیونکہ اے این پی اس منصوبے کو ملک کی خوشحالی اور استحکام کے علاوہ فاٹا ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی جنگ زدہ عوام کی بہتری اور خوشحالی کا ایک بڑا ذریعہ سمجھتی ہے ،جبکہ آئینی سیاسی اور نظریاتی جماعت ہونے کے ناطے اے این پی صوبے کے حقوق کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر اے این پی کا مؤقف واضح ہے اور پارٹی نے پہلے ہی دن سے واضح کر دیا تھا کہ اس منصوبے پر فاٹا اور صوبے کے ساتھ کسی قسم کا امتیاز برداشت نہیں کیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے آغاز کی نوید خوش آئند ہے اور خطے کے دیرپا امن اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان بد گمانیاں اور غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی سب کچھ بھول کر اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں جس سے دہشت گردوں کیلئے راہ ہموار ہوئی کیونکہ حکمرانوں کیلئے دہشت گردی اور بد امنی کا خاتمہ ترجیح نہیں رہا ، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کیا جائے تو دہشت گردی سے نجات ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا اور دہشت گردوں کے حمایت یافتہ لوگوں کو اقتدار حوالہ کرنے کیلئے ہمیں دیوار سے لگایا گیا ، تاہم 2018میں کوئی حکیم اللہ محسود نہیں آئے گا اور اے این پی عوام کے تعاون سے اقتدار میں آ کر عوام کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ عمران خان جیسے لوگ بھی سیاست کا حصہ بن چکے ہیں اور پارلیمانی سیاست کی ابجد سے نا بلد نئی نسل کو گالم گلوچ کی سیاست سکھا رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کی تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے اور صوبے کے تمام وسائل پی ٹی آئی کے چہیتوں میں بانٹ دیئے گئے ہیں،انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ آنے والے الیکشن کیلئے بھرپور تیاری جاری رکھیں ۔