تحفظات دور کئے جائیں،فاٹا انضمام کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا وقت آ پہنچا ہے اور حکومت اپنی سیاسی مجبوریوں اور مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر کروڑوں قبائلی عوام کی خواہشات پر عمل درآمد یقینی بنائے ،اب حکومتی سرد مہری پر عوام خاموش نہیں رہینگے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاٹا انضمام اور ایف سی آر کے خلاف پیدل مارچ کرنے والے شہری کثرت رائے کا نوشہرہ پہنچنے پر استقبال کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،اے این پی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان اور دیگر ضلعی رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے ، میاں افتخار حسین نے کثرت رائے کی ہمت ،حوصلہ اور مخلصانہ کاوش کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کثرت رائے کی طرف سے فاٹا انضمام اور ایف سی آر کے خلاف پورے ملک کا پیدل مارچ مرکزی حکومت کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے،اور اس اہم موقع پر صرف اے این پی ہی کثرت رائے کے ساتھ کھڑی ہے ،انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں اور اب تو ان میں مایوسی بھی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے تاہم اے این پی فاٹا کے صوبے میں انضمام کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ جہاں حکومت کا اپنا مطلب ہو وہاں راتوں رات آئین میں ترمیم کر کے اپنا مفاد پورا کر لیتی ہے جبکہ لاکھوں قبائلی عوام کی خواہشات کو مسلسل روندنے کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور تمام مکتبہ فکر کے لوگ فاٹا کے صوبے مین انضمام پر متفق ہو رہے ہیں،میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو فوری طور پر صوبے میں ضم کیا جائے ،ایف سی آر کا خاتمہ کر کے اسے باضابطہ عدالتی دائرہ اختیار میں لایا جائے ، قبائلی عوام کو آئینی، قانونی اور انسانی حقوق دیئے جائیں، فاٹا کی ترقی کیلئے دس سالہ ترقیاتی پیکج دیا جائے اور صوبائی اسمبلی میں اسے باضابطہ نمائندگی دی جائے،انہوں نے کہا کہ یہ وہ نکات ہیں جن پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں ہم فاٹا اصلاحات پر جلد از جلد عمل درآمد کیلئے تگ و دو کر رہے ہیں ،گزشتہ مظاہرے اور دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو مطالبات تسلیم کئے ہیں ان کا نوٹیفیکیشن جلد از جلد عوام کے سامنے لایا جائے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ احتجاج اور دھرنے کی کال قبائل کی جانب سے دی گئی تھی جس پر اے این پی نے ان کا ساتھ دیا اور اے این پی نے واضح کیا تھا کہ قبائلی مشران وزیر اعظم کے ساتھ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا ، اسی اثنا شاہ جی گل آفریدی اور امیر مقام کے وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات ہوئے جس کے بعد قبائلی وفد اور امیر مقام نے مظاہرین کو مطالبات کی منظور ی کی نوید سنا کر منتشر ہونے کیلئے کہا اور بتایا گیا کہ حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفیکیشن موجود ہے تاہم ابھی تک قبائلی مشران کی جانب سے نوٹیفیکیشن سامنے آ سکانہ ہی وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی جس سے مایوسی پھیلتی جا رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ مظاہرے اور دھرنے کے اختتام کے بعد سے اب تک میں اس نوٹیفیکیشن کیلئے استفسار کر چکا ہوں ،تاہم صورتحال واضح نہیں ہو رہی ، انہوں نے کہا کہ قبائلی مشران شاہ گی گل آفریدی اور دیگر کو اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے اور اس کے علاوہ وزیر اعظم کے ساتھ مذاکرات کے دوران جو بھی طے ہوا اس کو بلیک اینڈ وائٹ کی صورت میں عوام کے سامنے لایا جائے یہ صرف ایک فرد، ایک جماعت یا ایک طبقے کا معاملہ نہیں بلکہ کروڑوں قبائلی عوام کی امنگوں کی آواز ہے ، انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے حوالے سے اے این پی بنیادی کردار ادا کرتی آئی ہے، جبکہ قبائلی عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ فاٹا کوصوبے میں ضم کیا جائے ، ایف سی آر کا خاتمہ کر کے قبائلی عوام کو عدالتی دائرہ اختیار میں لایا جائے ، این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی عوام کا حصہ دیا جائے ،اور2018کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی میں ان کی نمائندگی دی جائے اور ہم نے ان مطالبات پر قبائلی مشران کا ساتھ دیا لہٰذا اب اس اہم مسئلے پر جو بھی کچھ اندر خانے طے ہوا اس کی تفصیل عوام کے سامنے رکھی جائے تا کہ صورتحال واضح ہو سکے ۔