بلوچستان و خیبر پختونخوا سمیت تمام پختون بیلٹ کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہم پختونوں کے حقوق کیلئے میدان میں نکلے ہیں اور بلوچستان و خیبر پختونخوا سمیت تمام پختون بیلٹ کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پختونوں کے درمیان انگریز کی کھینچی گئی لکیر مٹا دی جائے اور اس کیلئے اے این پی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، ن خیالات کا اظہار انہوں نے کندی تازہ دین پبی میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر درجنوں افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت اختیار کی، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اپنے وسائل پر اپنے اختیار کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے ،اور اس کے ثمرات عوام تک بھی پہنچائے جائیں گے، اُنہوں نے کہا کہ فاٹا مظاہرے کے بعد سے اب تک بعد مرکزی حکومت نے چپ سادھ لی ہے۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عوام کو صرف طفل تسلی سے ٹرخایا گیا ہے جبکہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہو چکی ہے لہٰذافاٹا کوصوبے میں جلد از جلد ضم کرکے اختیارات صوبے کے حوالے کیے جائیں ۔مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم پختونوں کے حقوق کیلئے میدان میں نکلے ہیں اور بلوچستان و خیبر پختونخوا سمیت تمام پختون بیلٹ کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پختونوں کے درمیان انگریز کی کھینچی گئی لکیر مٹا دی جائے اور اس کیلئے اے این پی ہراول دستے کا کردار ادا کرے گی،انہوں نے کہا کہ بعض رہنما اسے امریکی ایما پر کی جانے والی حکومتی سازش قرار دے رہے ہیں اور ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ خود بھی اسی حکومت میں بیٹھے ہیں،سی پیک کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ مغربی اکنامک کاریڈور پر ہمارے خدشات اور تحفظات تاحال موجود ہیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر سرد مہری اختیار کر رکھی ہے اور لگتا ہے کہ پختونوں کے حقوق سی پیک کے ملبے تلے دفن کر کے اکنامک کاریڈور بنایا جا رہا ہے جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے وزیر اعلیٰ نے سی پیک پر پختونوں کے حقوق کا سودا کیا ہے اور اپنے لیڈر کو وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچانے کیلئئے اپنے صوبے کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے،ہم پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں تاہم چائینہ پاک اکنامک کوریڈور کی آڑ میں مخصوص مفادات کے حصول کی اجازت کسی صورت نہیں دیں گے،انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں اے این پی ایک بار پھر اقتدار میں ہو گی اور صوبے کے عوام کے تعاون سے ترقی کا سفر شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور ساڑھے چار سال میں عوام خوشحال ہونے کی بجائے تبدیلی کے الٹ پھیر کی نذر ہو گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈینگی سے تاحال اموات کا سلسلہ جاری ہے لیکن کوئی حکومتی نمائندہ منظر عام پر آنے کو تیا رنہیں ،خزانہ خالی ہو چکا ہے جبکہ صوبے کو مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر پشاور ریپڈ بس منصوبہ شروع کر دیا گیا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان نے جس طرح خیبر پختونخوا کو تباہ کیا اس کی مثال کسی آمرانہ دور میں بھی نہیں ملتی ۔صحت اور تعلیم کے شعبے وینٹی لیٹر پر آکری سانسیں گن رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اے این پی اقتدار میں آ کر عوام کا احساس محرومی دور کرنے اور اداروں کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل کا سفر شروع کرے گی۔