2017 Nov2017 عمران خان چور دروازے سے اقتدار چاہتے ہیں، اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ سازش کا حصہ ہے

عمران خان چور دروازے سے اقتدار چاہتے ہیں، اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ سازش کا حصہ ہے

عمران خان چور دروازے سے اقتدار چاہتے ہیں، اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ سازش کا حصہ ہے

عمران خان چور دروازے سے اقتدار چاہتے ہیں، اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ سازش کا حصہ ہے،میاں افتخار حسین
 
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عمران خان چور دروازے سے اقتدار میں آنے کی مذموم کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی ، وزیر اعلیٰ کی طرف سے اسمبلیاں توڑنے کا مطالبہ اپنی حکومت کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے ، سوشل میڈیا پارٹی کی طرف سے قبل از وقت انتخابات کی باتیں صوبے کو نئی حلقہ بندیوں کی صورت میں ملنے والی 5اضافی نشستوں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں ، پی ٹی آئی پرانی حلقہ بندیوں پر انتخاب چاہتی ہے لیکن ان کی خواہش سے صوبے کو نقصان ہو گا، ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترخہ اکبر پورہ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں سمیت سینکڑوں کارکنوں نے اپنے خاندانوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ،اپنے خطاب میں میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ ملک میں جمہوریت ڈی ریل کرنے والوں میں عمران خان سرفہرست ہے لیکن انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اگر ملک میں جمہوریت کو نقصان ہوا تو ڈوبتی ناؤ میں صرف کپتان ہی ڈوبیں گے، انہوں نے کہا کہ جموریت کا تقاضا ہے کہ تمام حکومتیں اپنی معیاد پوری کریں ہم نے تحفظات کے باوجود صوبے میں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ تسلیم کیا لہٰذا مسلم لیگ کو بھی اپنی مدت پوری کرنی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو جمہوریت کی بقا کی اشد ضرورت ہے اور اسے ناکام بنانے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ، ملکی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت نے جس طرح نواز شریف کو نا اہل کیا اور ان کی پارٹی نے ترمیم کے ذریعے نواز شریف کو پارٹی صدر منتخب کیا اس اقدام سے اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوئی انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتیں انتخابات کا التوا بھی چاہتی ہیں ، الیکشن لیٹ ہوئے تو قومی حکومت یا ٹیکنو کریٹ حکومت بنائی جائے گی جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں انہوں نے کہا کہ انتخابات کا التواء ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا،تمام حکومتوں کو اپنی مقررہ مدت پوری کرنی چاہئے اور اپنے وقت پر الیکشن کا انعقاد ہی ملک و قوم کے مفاد میں ہے،انہوں نے کہا کہ نواز شریف صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں ،اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کریں،اداروں کے درمیان ٹکراؤ سے نقصان صرف ملک کو ہو گا۔میاں افتخار حسین نے بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں دیرپا قیام امن کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور خطے کے تمام ممالک اپنے مسائل باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کریں، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء کے خاتمے کیلئے مذاکرات بہترین آپشن ہیں اور افہام و تفہیم سے ہی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں ، دہشت گردی کیخلاف جنگ ہماری آئندہ نسلوں کی بقاء کی جنگ ہے جسے ہر قیمت پر جیتنا ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ موجودہ حالات میں امن پسند قوتیں اس مخصوص صورتحال کا ادراک کریں ورنہ بے توجہی تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان اپنی پالیسیاں سپر پاورز کی بجائے قومی مفاد میں بنائیں ، فاٹا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کی بازگشت کے بعد پھر سے خاموشی چھا گئی ہے جس سے قبائلی عوام میں سخت مایوسی اور بے چینی نے جنم لیا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی قبائلی عوام کے حق کیلئے جائز مظالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور صرف انضام ہی واحد راستہ ہے جس سے قبائلی عوام کو حق خود ارادیت بہتر انداز میں دیا جا سکتا ہے،صوبے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا مالیاتی اداروں کے پاس گروی ہے اور صوبے کے معاملات چلانے کیلئے حکومت کے پاس کچھ بھی نہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ساڑھے چار سال تک میٹرو کو جنگلہ بس کہنے والے آج اسی منصوبے کو سیاسی رشوت کے استعمال کیلئے استعمال کرنے میں لگ گئے ہیں ، حکومتی خزانہ لوٹ کر بیرونی دنیا سے جو قرضہ لیا گیا ہے اسے چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنے پڑے گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور آئے روز ہونے والی شمولیتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگ اب تبدیلی کی ہوا سے متنفر ہو چکے ہیں انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ الیکشن کیلئے بھرپور تیاریوں کا آغاز کریں

شیئر کریں