پی ٹی آئی میں دراڑ پڑ چکی ، سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پانامہ پر عدالتی فیصلہ آ چکا ہے اور امید ہے کہ اب ملک خصوصاً خیبر پختونخوا میں امن و امان اور انتظامی مسائل پر توجہ دی جائے گی، اے این پی کا اس حوالے سے روز اول سے ہی مؤقف واضح تھا تاہم ملی قائد اسفندیار ولی خان اس حوالے سے کل پارٹی کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں مزید تفصیلات بیان کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناصر کلے اور کندی تازہ دین میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر غنی الرحمان اور قیصر علی کی قیادت میں درجنوں افراد نے پی ٹی آئی سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ انتہائی گھمبیر مسائل میں گھر چکا ہے تمام ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور صوبائی حکومت کی اپنی جماعت میں ہی پھوٹ پڑ چکی ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے حکومت پے در پے غلطیاں کر رہی ہے،اور بجٹ میں جن سکیموں کا اعلان کیا گیا ان کیلئے نہ صرف فنڈز نہیں رکھے گئے بلکہ کئی منصوبوں سے وزیر خزانہ خود بے خبر ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے میں صرف نمود و نمائش کیلئے سکیمیں دی جارہی ہیں اور ان سکیموں کو الیکشن کیلئے سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔صوبے کے فنڈز کو ذاتی جاگیر سمجھ کر ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر خرچ کیا جا رہا ہے جو قابل گرفت اقدام ہے اور اس اقدام پر ان کا احتساب ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ خیبر بنک سکینڈل پر وزیر اعلیٰ اور وزراء کے درمیان اختلافات ہیں اسی طرح کئی وزیر کرپشن سے متعلق برملا الزامات لگا رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی میں دراڑ پڑ چکی ہے اور اب سب کی کرپشن کھل کر سامنے آنے والی ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے حالیہ میٹرک کے نتائج تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں بھی حکومت اصلاحات کرنے میں ناکام رہی جبکہ غریب عوام سے سستے علاج کی سہولیات تک چھیں لی گئیں انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کی چھت لیکج کے معاملے پر حکومت کی ناقص کارکردگی کو ویڈیو کے ذریعے عوام کے سامنے لانے والوں کو معطل کر دیا گیا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اب عوام اور میڈیا پانامہ کے سحر سے نکل کر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے پر توجہ دیں،اپنے دورہ لاہور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور جانے کا مقصد یہی تھا کہ ہم وہاں دھماکے کے زخمیوں اور شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، اور دہشت گردی جہاں کہیں بھی ہو ہم اس کے خلاف ہیں ، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نہ تو پنجابی ہے ۔ نہ بلوچی ، نہ سندھی اور نہ ہی پختون ، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہے اور اس کا کسی نظریے اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں،انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد بڑی مشکل سے ہمیں ایک 20نکاتی متفقہ ایجنڈا ملا لیکن بد قسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوا جس کی وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکا ،انہوں نے کہا کہ حکومت اس کی ذمہ دار تھی اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا تھا تو حکمرانوں کو بتانا چاہئے تھا کہ رکاوٹ کہا ہے اور اس پر نظر ثانی کر کے دوبارہ سے قابل عمل بنانا چاہئے تھا،انہوں نے کہا کہ یہ ایک مائنڈ سیٹ کی جنگ ہے اور دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے بغیر مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے ،انہوں نے کہا کہ نواز شریف تو اب سابق وزیر اعظم ہو چکے ہیں کتنا ہی اچھا ہوتا اگر وہ سی پیک پر ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کر لیتیاور پختونوں کو ان کا حق مل جاتا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اس اہم ایشو پر اپنے مؤقف پر ڈٹی رہے گی آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملکی استحکام کیلئے جمہوریت کی گاڑی کو چلتا رہنا چاہئے