پانامہ کا فیصلہ جلد آنے کا امکان ہے،تمام سیاستدان صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پانامہ کے حوالے سے اب زیادہ وقت نہیں عدالتی فیصلہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے ،تمام سیاستدان صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں عدالت جو بھی فیصلہ دے گی اے این پی اسے قبول کرے گی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 12 خان شیر گڑھی سرور آباد اور پبی 1طائزئی میں الگ الگ بڑے شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خان شیر غرھی سے راج محمد خان کی قیادت میں ذیشان، خورشید، فہیم، لال زمان، عمران طفیل نے درجنوں ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی سے اور پبی ون طائزئی میں پی ٹی آئی کے سر گرم کارکنوں مسعود، یاسر ، ولی اللہ، اسماعیل،اشفاق، عثمان ، درویش اور اختر علی نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی سرکردہ شخصیات اور عوام کی اے این پی میں آئے روز جوق درجوق شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کی توجہ اب اے این پی پر مرکوز ہے اور آنے والے دور میں پارٹی عوام کی خدمت کا سلسلہ بلا تفریق جاری رکھے گی۔اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پانامہ کیس میں صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے اور اب لگتا یہی ہے کہ کیس کا فیصلہ جلد ہونے والا ہے ، تاہم عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اے این پی اسے قبول کریگی لہٰذا سیاستدان صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کا انتظار کریں،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس اہم ایشو میں کسی سیاسی جماعت یا فرد کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ ہے اور اس حوالے سے جو فیصلہ آئے گا قبول کرینگے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول خراب کرنے ، افراتفری کی صورتحال پیدا کرنے اور لالچ و خود غرضی کی سیاست کرنے والے دراصل جمہوریت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل میں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہئے جو ملک اور جمہوریت کے مفاد میں ہو،میاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں پانامہ کے شور میں کئی اہم ایشو دب کر رہ گئے ہیں اور گزشتہ دنوں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں جوانوں کی شہادت میڈیا پر کہیں نظر نہیں آ رہی،فاٹا اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر اپنا مؤقف دہرایا کہ اے این پی اس مسئلے کا جلد از جلد حل چاہتی ہے تا کہ قبائلی عوام انگریز کے کالے قانون سے چھٹکارا پا کر بنیادی ضروریات زندگی سے استفادہ حاصل کر سکیں ، انہوں نے کہا کہ فون ، سیاستدان ، قبائلی عوام کے منتخب نمائندوں سمیت تمام پختون قوم فاٹا اصلاحات کے حق میں ہیں اور اب تو تمام قبائلی نوجوان نسل بھی اس حوالے سے میدان میں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے اور اس اہم مسئلے سے مرکزی حکومت کیوں چشم پوشی کر رہی ہے،؟ انہوں نے کہا کہ اے این پی قبائلی عوام کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے ، لہٰذا وزیر اعظم فاٹاکو آئینی ترمیم کے ذریعے صوبے میں ضم کرنے کا اعلان کرے اور ایف سی آر کا خاتمہ کر کے قبائلی عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کا خاتمہ کرے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا اور سی پیک سمیت جہاں کہیں بھی پختونوں کے مفادات کی بات ہو عمران خان اور نواز شریف اندر سے ملے ہیں،ان کے درمیان لڑائی تو صرف کرسی اقتدار کیلئے ہے،، انہوں نے کہا کہ عمران خان چار سال سے جمہوری حکومت کے خلاف سازش میں لگے رہے اور خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرتے ہوئے تخت اسلام آباد کی جنگ میں مصروف ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کیلئے پی ٹی آئی نے کبھی کوئی دھرنا نہیں دیا تمام دھرنے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے دیئے گئے اور تخت اسلام آباد کیلئے پختونوں کا کندھا استعمال کیا گیا تاہم اب پختون بیدار ہو چکے ہیں اور وہ یہ جان چکے ہیں کہ جس تبدیلی کے نام پر انہیں دھوکہ دیا گیا درا صل اس کا کوئی وجود ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر زندہ رہنے والی حکومت حقیقت میں کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکی اور اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عوام کو جھوٹے پروپیگنڈوں سے گمراہ کر رہی ہے۔ ہم سیاسی کارکن ہیں اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں،انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والے الیکشن کیلئے بھرپور تیاریاں جاری رکھیں کیونکہ 2018کا سورج اے این پی کی کامیابی کی نوید ے کر طلوع ہو گا۔