mian-sab

 اسٹیبلشمنٹ سمیت مرکزی و صوبائی حکومتیں اور تمام پختون قوم فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے؟
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا کوئی جواز نہیں بنتا، اسٹیبلشمنٹ، مرکزی و صوبائی حکومتیں ، قبائلی عوام کے نمائندے اور تمام پختون قوم اگر فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں ہے اور کون اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے ؟ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فاٹا سٹوڈنٹس کے زیر اہتمام فاٹا کے صوبے میں انضمام اور ایف سی آر کے خلاف گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے اہم قومی ایشو پر اتحاد و اتفاق پر قبائلی طلباء کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں مبارکباد دی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی قبائل کے صوبے کے انضمام کے حق میں ہے اور 90ء کی دہائی میں صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کر چکی ہے، تاہم اس وقت کے چند قبائلی مشران کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ آج حالات یکسر مختلف ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ہر جمہوری حکومت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اسے آزادی سے کام کرنے کلا موقع نہیں دیا گیا اور یہی صورتحال آج بھی ہے ملک میں بحرانی کیفیت ہے تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی باقیات قبائلی عوام پر مسلط ہیں جس کی وجہ سے قبائلی عوام آج تک پسماندہ زندگی گزار رہے ہیں،اور دہشت گردی و نا مساعد حالات کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر آئی ڈی پیز بنے ہوئے ہیں ، بچوں کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے کیمپوں میں مقیم یہ آئی ڈی پیز مسائل و مشکلات کا شکار رہتے ہیں لیکن ان کی حالت زار پر ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے،انہوں نے معذرت کے ساتھ کہا کہ اس اہم ایشو میں صوبائی حکومت کا کردار انتہائی اہم ہے تاہم عمران خان اور پی ٹی آئی نے تمام دھرنے وزارت عظمیٰ کیلئے دیئے ہیں جبکہ پختونوں کے حقوق اور فاٹا کے عوام کیلئے کوئی احتجاج نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ مخالفت کرنے والے پختونوں اور قبائلی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے ،انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور محمد خان اچکزئی سے بھی درخواست کی کہ موجودہ وقت میں قبائلی عوام کے روشن مستقبل کی خاطر فاٹا اصلاحات میں تمام پختونوں کا ساتھ دیں اور مزید رخنہ ڈالنے سے گریز کریں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے نمائندے ہیں اور ان کا بھی اس معاملے میں کردار بنیادی ہے لہٰذا انہیں مرکزی حکومت کے نوٹس میں لا کر فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی اس عظیم کاوش میں قبائلی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اور جب بھی یہ اہم مسئلہ حل ہوا اس کے بعد ہم بلوچستان کے پختون عوام کے درمیان کھینچی گئی لکیروں کو مٹانے کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے آخر میں تمام قبائلی طلباء کو اتحاد و اتفاق پر مبارکباد پیش کی اور فاٹا کے معاملے پر اے این پی کے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔