babak

قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے، بونیر میں شمولیتی اجتماع سے سردار حسین بابک کا خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ کہ ملک میں ایسا نظام ہونا چاہئے جس کے ذریعے جمہوری طریقے اور ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آنے والی حکومت پانچ سال پورے کرے،ملک میں ہمیشہ جمہوری حکومتوں کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ، جمہوریت کو ڈی ریل کیا گیا تو نقصان صرف ملک کو ہو گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل مندنڑ یو سی کوگا بونیر میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے درجنوں افراد نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، سردار حسین بابک نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے پر انہیں مبارکباد پیش کی، انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اہم سیاسی شخصیات اور عوام کی اے این پی میں جوق در جوق شمولیتوں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ اب تبدیلی کی حقیقت جان کر صوبائی حکومت سے متنفر ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کو مالی و انتظامی طور پر دیوالیہ کر دیا گیا ہے جبکہ 28ارب روپے کی کرپشن کی داستان زبان زد عام ہے ، انہوں نے ایک بار پھر احتسابی اداروں سے کہا کہ حکومت کی کرپشن کے تناظر میں خزانہ لوٹنے والوں پر ہاتھ ڈالیں،پانامہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا تسلسل ہی ملک کے مفاد میں ہے، انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کا کام مکمل ہونے اور عدالت میں فریقین کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ محفوظ کر لیا ہے تاہم پانامہ کیس پر عدالت جو بھی فیصلہ دے گی اے این پی اسے قبول کریگی۔سردار حسین بابک نے فاٹا کے حوالے سے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کا وقت آ چکا ہے ،اور اے این پی قبائلیوں کے حوالے سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی،انہوں نے کہا کہ فوج سمیت تمام سیاسی جماعتیں ، قبائلی عوام کے نمائندے اور تمام قبائلی و پختون عوام فاٹا اصلاحات کے حق میں ہیں تاہم اس کے باوجود نجانے آئینی ترمیم میں رکاوٹ کون ڈال رہا ہے ،؟انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہارکیا کہ فاٹا اصلاحات سمیت ملک کے کئی اہم مسائل پانامہ کے شور میں دب گئے ہیں اور وفاقی حکومت نے فاٹا جیسے اہم ایشو کو پس پشت ڈال دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے دعوؤں کے برعکس فاٹا کے انضمام میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی اگرچہ دو جماعتیں اس عمل کی مخالفت کر رہی ہیں مگر اے این پی، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، پی پی پی اور خود مسلم لیگ ن بھی فاٹا کے صوبہ میں انضمام کی حامی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ اس ایوان میں 2018 ء کے الیکشن سے قبل فاٹا کو نمائندگی حاصل ہو، انہوں نے کہا کہ ملک میں بحرانی کیفیت ہے تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی باقیات قبائلی عوام پر مسلط ہیں جس کی وجہ سے قبائلی عوام آج تک پسماندہ زندگی گزار رہے ہیں،اور دہشت گردی و نا مساعد حالات کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر آئی ڈی پیز بنے ہوئے ہیں ، بچوں کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے کیمپوں میں مقیم یہ آئی ڈی پیز مسائل و مشکلات کا شکار رہتے ہیں لیکن ان کی حالت زار پر ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے۔