khatak

صبر و تحمل کے ساتھ انتظار کیا جائے ،عدالتی فیصلے پر پیشگوئیوں سے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے؟،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے ‘‘ پانامہ کیس کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے تاہم کسی میں بھی صبو تحمل کا عنصر نظر نہیں آ رہا اور اب میڈیا پر فیصلے کے حوالے سے پیشگوئیاں شروع کر دی گئی ہیں،پانچ روز فریقین کے دلائل میں گزر گئے اور بعد ازاں روزانہ گھنٹوں میڈیا پر تبصروں نے عوام کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے، ، اس ملک میں پانامہ کے حلاوہ بھی کئی مسائل حل طلب ہیں جنہیں یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے ، فاٹا کا صوبے میں انضمام اور ایف سی آر کا خاتمہ عصری دور کا تقاضا ہے ،مرکزی حکومت ہٹ دھرمی چھوڑ کر اس اہم ایشو کو حل کرے اور قبائلی عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کا خاتمہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 6بہادر کلے اور خٹک باغ میں ایک بڑے شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اے این پی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے جلسہ میں خصوصی طور پر شرکت کی ۔اس موقع پراسحاق خٹک اور سابق ایم پی اے و صوبائی وزیر طارق خٹک نے پریس کانفرنس کے دوران اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،امیر حیدر خان ہوتی اور میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور انہیں سرخ ٹوپیاں پہنائیں

،بعد ازاں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی میں آئے روز ہونے والی شمولیتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام اب حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ اے این پی کو ہی اپنے حقوق کے تحفظ کا ضامن سمجھتے ہیں،پانامہ کیس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے تاہم فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کر رہے جبکہ کیس کا فیصلہ آنے میں صرف کچھ روز ہی باقی ہیں لیکن میڈیا پر ہر کوئی پیشگوئیاں کرنے میں مصروف ہے ، انہوں نے کہا کہ بہتر طریقہ یہی ہے کہ صرف چند دن انتظار کر لیا جائے اور ایسی بے تکی باتوں سے گریز کیا جائے جن سے عدالتی فیصلے پر اثر انداز ہونے کا گماں ہوتا ہو ، انہوں نے کہا کہ یا تو یہ لوگ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان سے زیادہ سمجھدار ہیں اور یا پھر اپنی پیشگوئیوں کے ذریعے اپنا فیصلہ عدالت پر مسلط کرنا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ جو بھی فیصلہ آئے گا اے این پی اسے قبول کرے گی اور اسی طرح سب کو عدالتی فیصلہ قبول کرنا چاہئے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک میں پانامہ کے علاوہ بھی کئی مسائل حل طلب ہیں جنہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ عمران خان صرف وزیر اعظم بننے کے چکر میں خیبر پختونخوا کے مینڈیٹ کی توہین کر رہے ہیں جبکہ پختونوں کے مفادات کے خلاف عمران اور نواز شریف کا مک مکا ہو چکا ہے ، جنگ صرف تخت کیلئے ہے ،کپتان پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کا کندھا استعمال کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے کو دیوالیہ کر کے رکھ دیا ہے اور اب ترقیاتی سکیموں کیلئے سرکاری ملازمین کے پنشن اور جی پی فنڈ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ سی پیک پر صوبائی حکومت نے عوام کو اندھیرے میں رکھا اور صوبے کے حقوق کی بات پر وزیر اعلیٰ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے ، اُنہوں نے کہا کہ وقت ضائع کیے بغیر قبائلی منتخب نمائندوں کے بل اور عوامی خواہشات کے مطابق فوری طور پر صوبے کا حصہ بنایا جائے اور اس کام میں مزید کسی تاخیر سے گریز کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی اس معاملے میں فاٹا کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ جو بل اسمبلی میں جمع کر لیا گیا ہے اس پر فی الفور عمل کیا جائے تاکہ فاٹا کے ساتھ کی گئی بے انصافیوں کا ازالہ ہو سکے اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کو یقینی بنایا جائے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سے عوام دوست پالیسیوں کی توقع رکھنا عبث ہے،انہوں نے کہا کہ تصوراتی ایجنڈے،غیر ذمہ دارانہ رویے اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ مسائل کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ انتظامی امور سے نا بلد حکو مت کے دور میں ہر طبقہ فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں،عوامی مسائل کا ادراک نہ رکھنے والی حکومت نہ صرف یہ کہ صوبے کے محدود وسائل استعمال کرنے میں ناکام ہو گئی ہے بلکہ صوبے کو تاریخ کے بدترین مالی و انتظامی بحران سے دوچار کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقی کا پہیہ رک گیا ہے ،اور تمام امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں،جس کا خمیازہ دہشت گردی کے مارے عوام بھگت رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام کی نظریں اے این پی پر لگی ہیں، انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور 2018کے الیکشن میں کامیابی کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے۔۔