دہشت گردی کے خلاف اے این پی کی لازوال قربانیاں تاریخ کا انمٹ باب ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میں افتخار حسین نے پولیس فورس سمیت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائینگی،اور وہ دن دور نہیں جب ان قربانیوں کے نتیجے میں دھرتی امن کا گہوارہ بن جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں 2009ء میں شہید ہونے والے ریاض الدین کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ پریس کلب کی حفاظت پر مامور ریاض الدین نے دہشت گرد کو پریس کلب میں داخل ہونے سے روکا اور خودکش دھماکے کی نذر ہو گیا انہوں نے شہید کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاض الدین پوری انسانیت کا محسن ہے ، انہوں نے کہا کہ میں خود اس وقت انفارمیشن منسٹر تھا اور ہمارے دور حکومت میں 2009اور2010انتہائی مشکل ترین سال تھے دہشت گردی عروج پر تھی تاہم ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے فوج کو بلانا بھی نا ممکن تھا جبکہ ایف سی بھی پورے ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے مختلف علاقوں میں مصروف تھی، انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہم نے پولیس کی خصوصی تربیت پر توجہ دی اور اہلکاروں کی تعداد40ہزار سے بڑھا کرتقریباً 80ہزار کر دی گئی،اور ساتھ ہی ان کی تنخواہوں میں بھی مشترکہ طور پر دوگنا اضافہ کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں ان کی تنخوا میں مزید اضافہ بھی کیا، انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کیلئے وسائل کی ضرورت تھی تاہم دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کیلئے ہم نے یہ گھونٹ پیا ، میں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں پولیس جوانوں کی تربیت فوجی انداز میں کرائی جبکہ شہداء پیکج 3لاکھ سے بڑھا کر30لاکھ کر دیا گیا، دوران ملازمت شہید ہونے والے اہلکاروں کے بچوں کو نوکریاں دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تنخواہ بھی ان کے لواحقین کو ملتی رہی ، انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تھانوں کو مضبوط بنایا گیا تاکہ وہ دہشتگردوں کے مذموم حملوں سے محفوظ رہ سکیں ، انہوں نے کہا کہ پشاور پر17بار لشکر کشی کی گئی جسے پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ناکام بنایا،میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردوں نے میرے بیٹے کو صرف اس لئے شہید کیا کہ میں ہر دھماکے کی جگہ پر عوام کی داد رسی کیلئے موجود ہوتا تھا ۔مولانا فضل اللہ نے ایف ریڈیو پر اعلان بھی کیا اور میرے بیٹے راشد حسین کو شہید کرنے والے دہشت گرد قیوم نے اس بات کا اعتراف کیا ہم نے ولی الرحمان کے کہنے پر کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے اگر میرے دس بیٹے بھی ہوتے تو دھرتی پر امن کے قیام کیلئے قربان کر دیتا ، انہوں نے کہا کہ میں باچا خان بابا کا سپاہی اور عدم تشدد کا علمبردار ہوں اور دہشت گردی کے خلاف اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہوں گا، آخر میں انہوں نے ایک بار پھر ریاض الدیں سمیت پولیس کے تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پروگرام کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔