حیات آباد خود کش حملہ سیکورٹی صورتحال اور سیف سٹی کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہے،میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی طرف سے سیکورٹی فورسز پر حملے قابل مذمت ہیں اور حیات آباد کا سانحہ سیف سٹی منصوبے کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہے ، حکومت نے کروڑوں روپے کی لاگت سے حیات آباد کو سیف سٹی بنانے اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام یقینی بنانے کے اعلانات کئے تھے لیکن حیات آباد میں دہشت گردی کے دوسرے بڑے واقعے کے بعد ان اعلانات کی قلعی کھل گئی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے12خان شیر گڑھی میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما حضرت گل ، شیراز خان اور عمر گل نے اپنے خاندان اور درجنوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد دی، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حیات آباد میں دہشتگردی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے حیات آباد کو سیف سٹی بنانے اور وہاں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے دعوے غلط ابت ہو گئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اب اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں لینا چاہئے اور بتا یا جائے کہ ان اعلانات پر عمل درآمد صرف کاغذوں کی حد تک کیوں محدود رہا ؟ اگر کروڑوں روپے اس پراجیکٹ پر خرچ کئے گئے تو دہشت گرد پکڑے کیوں نہیں جاتے ، انہوں نے سانحے میں شہید ہونے والے میجر اور ان کے رائیور کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور خطے میں امن کے قیام کیلئے جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں، ہم نے جس طرح سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا اسی طرح جے آئی ٹی کے بعد آنے والے عدالتی فیصلے کو بھی تسلیم کرینگے ،جے آئی کی رپورٹ صرف سفارشات پر مبنی ہے حتمی فیصلہ عدالت عظمی نے کرنا ہے،کہ عوام اب اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہو چکے ہیں کہ ان کے حقوق کے تحفظ کی ضامن اے این پی ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگ موجودہ صوبائی حکومت کی چار سالہ کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں کیونکہ عوام کے حقوق پر سودے بازی کر کے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے راہ ہموار کی جاتی رہی ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جتنے دھرنے وزارت عظمی کیلئے دیئے ہیں اگر پختونوں کے حقوق کیلئے دیئے ہوتے تو حالات آج تبدیل ہوتے ، خیبر پختونخوا میں تبدیلی صرف یہ آئی کہ ترقی کے میدان میں صوبہ کئی سال پیچھے چلا گیاہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی رخصتی کے آخری سال میں ہے تاہم صوبے میں تبدیلی صرف اس حد تک نظر آئی کہ خیبر پختونخوا کئی سال پیچھے چلا گیا ہے ،جس کی وجہ سے آنے والی حکومتوں کو بڑے چیلنجز کا سامناکرنا پڑے گا،انہوں نے مذید کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور اب حکومت کے پاس سر کاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے بھی پیسے نہیں،ا نہوں نے کہا کہ نواز شریف اور عمران خان کے درمیان صرف کرسی کی جنگ ہے باقی تمام معاملات میں اندر سے ملے ہوئے ہیں اور ملکی مفاد کے برعکس اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیئے ہوئے ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ کپتان نے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کی ہے ،پانامہ کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی کا اس اہم ایشو پر مؤقف شروع دن سے بالکل واضح ہے اور ہم سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں جو فیصلہ عدالت کرے گی ہمیں قبول ہو گا، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر بات کی ہے ہم ملزم کو مجرم سے ثابت ہونے سے پہلے سزا دینے کے حق میں نہیں۔لہٰذا دیگر جماعتوں کو بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔انہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نااہل حکومت نے خزانہ خالی کر دیا ہے اور اب ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی تک کیلئے اُن کے پاس پیسے نہیں ہیں اور سرکاری ملازمین کی پنشنز اور جی پی فنڈ سے صوبے کے نظام کو چلایا جا رہا ہے۔ صوبہ بدترین مالی و انتظامی بحران کا شکار ہے،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کرپشن کے حوالے سے بیان دے کر سپریم کورٹ کو دھمکی دی ہے اور اپنی مرضی کے فیصلے کیلئے عدالت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس کی آڑ میں وہ اپنی کرپشن کو دوام بخشنے کیلئے جواز پیدا کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو چیف ایگزیکٹو کے عہدے کا پاس ہونا چاہئے ،میاں افتخار حسین نے کہا کہ کارکن الیکشن کیلئے بھپور تیاری کریں کیونکہ آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہے۔