فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ٹرمپ نے دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے، اسفندیار ولی خان

اسلام آباد ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے امریکی اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے این پی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہے اور اگر امریکہ جارحیت سے باز نہ آیا تو ہم اس کے خلاف میدان میں ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شولگرہ ترناب چارسدہ PK-19 میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا صدر بننا امریکہ کی بدقسمتی تھی۔ ہم نے ہمیشہ مظلوموں کی سیاست کی ہے اور اُس خطے میں فلسطینی مظلوم ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی ملک امریکہ کے اس جارحیت پر مبنی فیصلے کی حمایت نہیں کرتا۔ آج تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کوئی بھی ملک تشدد کی حمایت نہیں کرتا اور دنیا باچا خان بابا کے دیے ہوئے عدد تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ چالیس برس قبل جب ہمارے اکابرین نے افغان جہاد کو فساد کا نام دیا تو اس وقت کسی نے ان کی بات نہیں مانی تاہم آج ردالفساد کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اور سٹیک ہولڈرز اس کی تقلید کر رہے ہیں۔ دنیا میں جتنا خون پختونوں کا بہا ہے شاید وہ دوسری جنگ عظیم میں بھی نہیں بہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کو دنیا کے سامنے دہشت بنا کر پیش کیا گیا جبکہ حقیقت میں دہشت گردی پختونوں پر مسلط کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ ہماری نئی نسل کو گولی اور خودکش جیکٹ کی بجائے قلم اور کتاب دی جائے۔ ان کے لیے سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بنائی جائیں۔ اسفندیار ولی خان نے خطے میں دیر پا امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا پاکستان میں قیام امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دونوں ملکوں کی حکومتوں سے کہا کہ آپس میں مل بیٹھ کر پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرے اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے صورتحال کا ادراک نہ کیا تو مستقبل میں بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ملک کے مجموعی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پانامہ میں صرف نوازشریف اور اس کے خاندان کا نام نہیں تھا، نیب کی تحقیقات صرف ایک خاندان تک محدود ہے جبکہ پانامہ میں شامل دیگر افراد احتساب کے شکنجے میں نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ بلا امتیاز سب کا احتساب ہونا چاہئے اور نیب اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ 
فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فاٹا کو فی الفورصوبے میں ضم کیا جائے کیونکہ حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صرف دو افراد پختونوں کے اتحاد اور یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک مولانا صاحب اور دوسرا خود کو پختونوں کا قوم پرست رہنما کہتا ہے اور وہی قوم پرست رہنما پختونوں کے اتحاد کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نے نواز شریف سے نظریاتی اتحاد صرف اپنے بھائی کو گورنر بنانے کے لیے کیا لیکن افسوس کہ انہوں نے اپنی انتہائی کم قیمت لگائی ہے۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہم نے جب ماضی میں اتحاد کیا تو صوبے کے لیے حقوق اور شناخت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو آئندہ الیکشن سے قبل صوبے میں ضم کر کے 2018کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں نمائندی دی جائے۔ صوبے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج ہمیں کرپٹ کہنے والے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اپنے گریبان میں جھانکیں اور بتائیں کہ جس حکومت کو وہ کرپٹ کہتے ہیں اس میں وہ خود کیوں وزیر رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کرپشن کی ہوتی تو آج ہمارے ایم پی ایز، ایم این ایز اور وزراء جیلوں میں ہوتے لیکن ہمارے کسی ممبر کے خلاف کوئی چوری ثابت نہیں ہوئی جبکہ پرویز خٹک کے اپنے ممبران ان کے خلاف سلطانی گواہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف کوئی بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو میں سزا کے لیے تیار ہوں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے بغیر کوئی بھی جماعت پختونوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتی۔ عوام آئندہ انتخابات میں اے این پی کو کامیاب کرکے اپنے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو مسترد کر دیں گے۔