ال اسٹوڈنٹس فیڈریشن کانفرنس

فاٹا انضمام کی مخالفت کرنے والے قبائلی عوام کے بشری حقوق کیلئے یک زبان ہو جائیں ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے لاکھوں قبائلیوں اور پختونوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کرے ، مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی مخالفت چھوڑ کر قبائلی عوام کے بنیادی انسانی حقوق کیلئے کی جانے والی جدوجہد میں شامل ہو جائیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں فاٹا انضمام کے حوالے سے پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام آل سٹوڈنٹس فیڈریشن قائدین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع تمام سیاسی جماعتوں اور فاٹا سے تعلق رکھنے والی کی سٹوڈنٹس تنظیموں کے قائدین نے بھرپور شرکت کی ،پختون ایس ایف کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین حق نواز خٹک نے اپنے خطاب میں مشترکہ اعلامیہ پیش کیا ،جبکہ سیکرٹری عمران مہمند نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے ، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پختونوں کا اصل اتحاد فاٹا کے صوبے میں انضمام میں ہی مضمر ہے جبکہ ایف سی آر انگریز کی باقیات ہیں اور انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اس کالے قانون کا خاتمہ ضروری ہے ، عسکری قیادت ، مرکزی و صوبائی حکومتیں ، قبائلی عوام اور ان کے نمائندے اور تمام پختون قوم اگر فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں تو پھر تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتا،انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی قبائل کے صوبے کے انضمام کے حق میں ہے اور اے این پی 90ء کی دہائی میں صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کر چکی ہے، تاہم اس وقت کے چند قبائلی مشران کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا جبکہ آج حالات یکسر مختلف ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہیں جو کام ہم 90کی دہائی میں کرنا چاہتے تھے وہی آج سب کا مطالبہ ہے ، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر عمل درآمد کی نوید سنائی گئی تاہم پانامہ کے شور میں یہ اہم ایشو دب گیا تاہم اگر مرکزی حکومت موجودہ وقت میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا اعلان کر دے تو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس کام کیلئے انتہائی موزوں ہے اور کوئی نہیں جانتا کل پھر موقع ملے نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ انگریز سے آزادی کے باوجود ان کی کھینچی گئی لکیریں تاحال پختونوں کے درمیان موجود ہیں اور ہم ان تمام لکیروں کو متانے کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ، فاٹا اور بلوچستان کے پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ قبائلی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کی جدوجہد میں شریک ہیں،لہٰذا قبائلی عوام کو صوبے میں ایک بڑے اور خصوصی پیکج کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ اور اسمبلیوں میں نمائندگی مل سکے،اور اسکے ساتھ ساتھ ترقیاتی فنڈز کیلئے صوبائی سطح پر پیکج دیا جائے،انہوں نے مردم شماری میں صوبے اور فاٹا کی آبادی کم ظاہر کرنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے صرف اس لئے یہ گیم کھیلی تاکہ پختونوں اور قبائلیوں کو وسائل کی تقسیم زیادہ نہ ہو سکے ، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی ٹرائبل کا حصہ مرکز کے پاس ہے جو صوبے میں انضمام کے بعد ہی قبائلی عوام تک پہنچ سکے گا،اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے نمائندے ہیں لہٰذا فاٹا کے انضمام کے بعد تمام اختیارات صوبے کے پاس ہونے چاہئیں ورنہ حالات سدھار کی بجائے تباہی کی جانب جائیں گے،بین الاقوامی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جب بھی مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا اسے سبوتاژ کرنے کی سازشیں شروع کر دی گئیں اور افغانستان کے حالات سوچی سمجھی سازش کے تحت خراب کئے جا رہے ہیں، دونوں ملکوں میں افہام و تفہیم ضروری ہے،سپر پاورز کے سحر سے نکلے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں ۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد میں بنانی چاہئیں اور خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ جب سے پاک افغان مذاکراتی عمل کا عندیہ دیا گیا ہے تب سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حالات خراب کر کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے لہٰذا مذاکراتی عمل ضروری ہے اور قومی بیانیہ اس حوالے سے اہم اور بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے خطے میں چین ، روس اور امریکہ سپرپاورز جبکہ پاکستان ،ایران اور بھارت ایٹمی طاقت کے طور پر موجود ہیں ، سپرپاورز نے اپنے مفادات کیلئے ہمارے خطے کو مسکن بنا لیا ہے اور ان میں سے کسی کے بھی مفادات کو نقصان پہنچا تو خطہ میں تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی، اور اس جنگ کو روکنے کیلئے سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی ، انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ پراکسی وار کا متحمل نہیں ہو سکتا ، انہوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین اور اچھے تعلقات اشد ضروری ہیں اور اسی صورت میں مزید جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔