حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر سنجیدگی سے دہشت گرد منظم ہو چکے ہیں ، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ بے گناہ انسانوں اور تعلیمی اداروں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کا مقصد ملک اور عوام میں دہشت کی فضا پھیلانا ہے تاہم عوام کا دہشت گردی کے خلاف اتحاد کسی صورت انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیگا ، انہوں نے کہا کہ جب تک ملک بھر خصوصاً پنجاب میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس تباہ نہیں کئے جاتے امن کا قیام ممکن ہی نہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں شمالی وزیرستان دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محسن داوڑ بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے،میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ صرف وزیرستان آپریشن سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ گڈ اور بیڈ کا فرق ختم کر کے تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنا ہو گی۔اور پنجاب میں سرگرم 70 کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر کاروائی کے بغیر امن کا قیام ممکن ہی نہیں ، جو مختلف ناموں سے اب بھی چندے اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اس رقم کو دہشت گردی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کالعدم تنظیموں پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں اور اب یہ تنظیمیں ملک کے انتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دہچت گردی کے خاتمے میں کون کتنا سنجیدہ ہے ؟انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات نے قوم کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں ٹارگٹڈ اور سرچ آپریشن کر کے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی جائے، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مخصوص ذہنیت کے خلاف سخت کاروائیوں کے بغیردہشت گردوں کی پیداواری فیکٹریوں کا خاتمہ ممکن نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اے پی ایس سانحے کے بعد ایک متفقہ 20نکاتی دستاویز سامنے آئی تاہم بدقسمتی سے مرکزی ، پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت نے اس پر عمل درآمد میں مصلحت سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج دہشت گرد آزاد ہیں اور وہ جب جہاں چاہیں کاروائی کر سکتے ہیں،پنجاب میں ان دہشتگردوں کی نرسریوں پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا جبکہ ہماری صوبائی حکومت دہشت گردوں کو دفتر فراہم کرنے کا سوچتی رہی جس سے دہشت گردوں کو تقویت ملی ،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اگرنیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پراب بھی عملدرآمد کر لے تو ملک بھر میں امن قائم ہو سکتا ہے، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کیا جائے تو دہشت گردی سے نجات ممکن ہے، البتہ ابھی تک دہشت گردوں کی حکمت عملی کامیاب رہی اور وہ جب جہاں جسے چاہیں ٹارگٹ کر سکتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں حکومتی حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری تک خطے میں امن کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، خطے کو درپیش جیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں پختون بیلٹ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں ، لہٰذا اب بہت خون بہہ چکا ہے اور اس کے تدارک کیلئے عالمی سطح پر کوششیں کرنا ہونگی، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں خارجہ و داخلہ پالیسیاں سپر پاورز کے مفاد کی بجائے قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر ری وزٹ کریں ، اور دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان اور افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی راہ نکالی جائے کیونکہ افغانستان سے اچھے تعلقات خود پاکستان کے مفاد میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو باہمی افہام و تفہیم سے اپنے مسائل کا حل نکالنا چاہئے ، گزشتہ دنوں مذاکرات کے حوالے سے باز گشت سنائی دی تاہم ابھی تک اس پر کوئی پیپش رفت نہیں ہوئی ،اسی طرح جائنٹ سیکشن کے بارے میں بھی معاملات سست روی کا شکا ر ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ خطے میں تین سپرپاورز امریکہ ، چین اور روس اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف ہیں جبکہ تین ایٹمی طاقتیں پاکستان ایران اور بھارت کے بھی تعلقات ایک دوسرے سے کشیدہ ہیں ایسے موقع پر ذرا سی غلطی بڑی تباہی کا پیش ضیمہ ثابت ہو سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ تمام ممالک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کریں ،اور سپرپاورز اس خطے پر اپنے مفادات کی جنگ مسلط نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پالیسیاں تبدیل نہ ہوئیں تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کی ذمہ داری آج کے پالیسی سازوں پر عائس ہو گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیرستان سمیت تمام قبائلی بیلٹ کے متاثرین کو خصوصی پیکج دیا جائے اور جن کے پیارے دہشت گردی کی نذر ہوئے ان کی داد رسی کیلئے ان کے ساتھ تعاون کیا جائے ۔انہوں نے تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔