ڈینگی سے اموات کا تسلسل ایکشن پر یقین رکھنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، ہارون بشیر بلور

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ہارون بشیر بلور نے ایکشن پر یقین رکھنے سے متعلق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے بیان پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈینگی سے تاحال قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں جبکہ صوبے کے چیف ایزیکٹو تاحال اسے انا کا مسئلہ بنائے بیٹھے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ایکشن پر یقین رکھنے والوں کے چار سالہ دور میں تہکال جیسے علاقے کے87فیصد پانی میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور یہ رپورٹ عالمی ادارہ صحت نے دی ہے ،انہوں نے کہا کہ یہ سب اچانک نہیں ہوا ، ڈینگی کی باز گشت کافی عرصہ سے سنائی دے رہی تھی تاہم حکومت اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے تھی، انہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے دعوے کرنے والوں نے صوبے کے عوام کو موذی امراض کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ بلین سونامی ٹری کی بجائے اگر عوام کی صحت پر توجہ دی جاتی تو آج بیشتر قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں ،کروڑوں روپیہ شجر کاری پر لٹا دیا گیا جبکہ عوام مصائب اور مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 1500سے تجاوز کر گئی ہے، اور 250مریض پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور ڈینگی کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع صحت کا انصاف پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس صورتحال سے سبق سیکھنا چاہئے اور فوری طور پر احتیاطی تدابیر، مرض کی روک تھام اور فوری علاج معالجے کے طریقہ کار کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ لوگوں میں اس موذی مرض سے بچاؤ کیلئے شعور اجاگر کیا جا سکے ،انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کا حلیہ بگاڑ دیا ہے صحت کی سہولیات عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں اور صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ اب ان حالات میں انا پرستی کی بجائے حکومت حقیقت کا سامنا کرے اور عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی اور ڈینگی کی روک تھام کیلئے فوری طور پرٹھوس اقدامات اٹھائے۔