پراکسی وار اور بداعتمادی کی بجائے انتہا پسندوں کو مشترکہ دُشمن قرار دے کر کاروائی کی جائے ، میاں افتخار حسین 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ دنیا کی ہر آزاد قوم دوسری اقوام کی آزادی کااسی طرح احترام کرتی ہے جیسا اپنی آزادی کا کرتی ہے۔اور جس طرح ہر قوم کو اپنی آزادی عزیز ہوتی ہے اور اس کی خوشی مناتی ہے اس طرح افغان قوم کو بھی اپنی آزادی عزیز ہے۔اور ہم ان کے ساتھ جشن آزادی کی اس خوشی میں برابر کے شریک ہیں اور افغانستان کی حکومت اور عوام کو اس کے 98 یوم آزادی پر اپنی پارٹی کی جانب سے مبارک باد دیتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں افغان قونصلیٹ کے زیر اہتمام افغانستان کے98ویں یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، پارٹی کے سینئر رہنما افراسیاب خٹک اور لطیف آفریدی ایڈوکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھے ۔انہوں نے کہا جس طرح ہمیں اپنے ملک پاکستان کی ترقی،خوشحالی اور آزادی عزیز ہے اسی طرح اپنے برادر ہمسایہ ملک افغانستان کی آزادی بھی عزیز ہے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ دینی۔تہذیبی اور خونی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں برادر اسلامی ممالک ہیں اور اس وقت دونوں ممالک بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔لہٰذا دونوں ممالک کو اس صورتحال پر مکمل قابو پانے کے لیے اپنے مشترکہ دشمن کومات دینا ہوگی اور اس مقصد کیلئے مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی ،انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے کیساتھ جڑا ہوا ہے تاہم اگر اوائل میں اگر ہمارے قائدین کی بات مانی جاتی تو آج دونوں ممالک کو موجودہ صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں اور ان کے ساتھ عالمی معاہدے اورانسانی حقوق کے تقاضو ں کے مطابق برتاؤ کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ میں پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی خصوصی ہدایت پر آیا ہوں اور ان کی طرف سے اپنے افغان بھائیوں اور حکومت کو جشن آزادی پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا ماضی کی طرح آج بھی اور آنے والے وقتوں میں بھی ہم اپنے افغان بھائیوں کے ہر دکھ درد اور ان کی خوشی میں شریک رہیں گے۔انہوں نے کہا دہشت گردی اور شدت پسندی نے آج پوری دنیا میں ایک مائنڈ سیٹ کی شکل اختیار کررکھی ہے اس لیے دنیا کی تمام امن دوست اور بشردوست قوتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ مل کر اس مائنڈ سیٹ کومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور دونوں ممالک کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے از سر نو تشکیل دینی چاہئیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پر امن افغانستان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے این پی کی جدوجہد اور موقف کا سب کو علم ہے اور ہم نے اس ضمن میں بہت بڑی قیمت بھی چکائی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی خطے میں جاری تشدد اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کو آرڈی نیشن کے علاوہ بہتر اور دوستانہ تعلقات کو ناگزیر قرار دیتی آئی ہے اور اس سنگین مسئلے کے حل کا واحد راستہ یہ ہے کہ پراکسی وار اور بداعتمادی کی بجائے انتہا پسندوں کو مشترکہ دُشمن قرار دے کر ان کے خلاف موثر کارروائیاں کی جائیں۔