04.08.2017

 ملک کی ترقی کیلئے تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، میاں افتخار حسین
پختونوں کو ایک نہ ہونے کیلئے وفاق نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، سوات کبل میں شمولیتی جلسہ عام سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، اے این پی ملک کے تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتی ہے اور اسی لئے بے شمار تحفظات کے باوجود پانامہ پر عدالتی فیصلہ قبول کیا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کبل سوات میں ایک بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن سے اہم سیاسی شخصیات ملک سلطان روم ، ملک روان خان ، اور افضل خان نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے باچا خان بابا کے قافلے میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ پانامہ کے حوالے سے اے این پی کا مؤقف واضح تھا اور ہم جرم ثابت ہونے تک وزیر اعظم کے استعفے کے حق میں نہیں تھے، انہوں نے کہا کہ اب جبکہ فیصلہ آ چکا ہے تو ہم نے تحفظات کے باوجود اسے قبول کیا کیونکہ ہم جمہوریت کی بقاء چاہتے ہیں اور اسی جمہوریت کے تسلسل کیلئے ہم نے 2013کے الیکشن نتائج بھی قبول کئے تھے ،انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی یہ بہت بڑی بد قسمتی ہے کہ یہاں کسی منتخب وزیر اعظم کو اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی،البتہ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم کے خلاف سازشیں ان کی اپنی پارٹی کے اندر سے ہوتی رہیں اور انہیں نااہل کرانے والوں کا مقصد پورا ہو گیا اب اگر کوئی چاہے تو انہیں پانچ سال بعد بحال کرا سکتا ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ان کی مقبولیت میں اضافہ کا غصہ عمران خان نے قومی وطن پارٹی کو حکومت سے نکال کر اتارا،صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سازشوں کے ماہر ہیں،اور انہوں نے صوبے کا سارا نظام درہم برہم کر دیا ہے ، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور وزراء کی جانب سے کرپشن کے الزامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف کے حامی نہیں عمران خان اور نواز شریف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور جہاں کہیں بھی پختونوں کے مفادات کے خلاف بات ہو تو وہ دونوں ایک پیج پر متفق ہو جاتے ہیں جبکہ لڑائی صرف تخت اسلام آباد کیلئے ہے،سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے مغربی اکنامک کوریڈور پہلے بنانے کا فیصلہ کیا لیکن وہ اپنے وعدے سے مکر گئے اور پختونوں کو ان کے حق سے محروم کر کے انہیں دھوکہ دیا گیا،اسی طرح دورہ چین کے دوران تمام وزرائے اعلیٰ اپنے صوبے کا کیس لے کر پہنچے تاہم پرویز خٹک نے وہی کیا جو انہیں کپتان نے کہا اس لئے وہ صوبے کا کیس ہار گئے ، فاٹا بارے میاں افتخار حسین نے کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل تھیں لیکن نواز شریف نے ایک بار پھر عین وقت پر قبائلی عوام کو دھوکہ دی اور آئینی اصلاحات سے مکر گئے اب تو لگتا ہے جیسے نا اہل وزیر اعظم کو پختونوں اور قبائلیوں کی آہیں لے ڈوبی ہیں،سانہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اور تعلیم کا وہاں تصور تک نہیں، جبکہ فاٹا کا تمام فنڈ مرکز ہڑپ کر جاتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ پختون اکٹھے ہو سکیں،انہوں نے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ پختون آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں ،انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ آنے والے الیکشن کیلئے بھرپور تیاری کریں کیونکہ 2018اے این پی کی کامیابی کا سال ہے ، اور الیکشن میں کامیابی کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ اے این پی دوبارہ سے شروع کرے گی۔