22.08.17

ملک کیلئے نازک گھڑی ہے ،حکومت ٹرمپ بیان کے بعد صورتحال کا ادراک کرے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خطے میں دورس اثرات مرتب ہونگے البتہ اگر پاکستان نے اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل نہ کیں تو امریکہ کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟باچا خان مرکز میں بونیر سے آئے وفد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کیلئے نازک گھڑی ہے اور اس موقع پر سنجیدگی سے قدم اٹھانا ہونگے کیونکہ ہمارا خطہ گزشتہ30سال سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور اب مزید اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولیں ذمہ داری ہے کہ موجودہ صورتحال کا ادراک و تجزیہ کرے اور ایک ایسی پالیسی بنائے جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافے کی بجائے کمی واقع ہو ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ20نکاتی ایجنڈا موجود ہے جس پر عمل درآمد میں پہلے ہی مصلحت سے کام لیا گیا ،اس متفقہ دستاویز پر تمام عسکری ، سیاسی اور مذہبی قیادت سمیت تمام مکتبہ فکر کے افراد متفق تھے تاہم اس پر من و عن عملدرآمد کرانا باقی ہے جس سے صورتحال یکسر تبدیل ہو جائے گی،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ خود ملک اور انسانیت کے مفاد میں ہے، دہشت گردی سے سب سے زیادہ پختون متاثر ہوئے ہیں اور اب مستقبل میں پختون سرزمین اس کی متحمل نہیں ہو سکتی،پانامہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو عدالتی فیصلے نے زندہ شہید بنا دیا انہیں ایسی غلطی پر سزا دی گئی جو پانامہ میں شامل ہی نہیں تھی ،انہوں نے کہا کہ ہم نواز شریف کے نہیں بلکہ عدلیہ کے ساتھ ہیں اور تحفظات کے باوجودعدالت عظمی کا فیصلہ قبول کیا ہے،البتہ اس فیصلے کے بعد عوام ان کی توجہ متوجہ ہو گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پختونوں کو ان کے جائز حقوق پر دھوکہ دیا اور سماجی انصاف کرنے سے خود کو محروم کر لیا لگتا ہے فاٹا اور سی پیک پر پختونوں کی بد دعائیں ہی نواز شریف کو لے ڈوبی ہیں،انہوں نے کہا کہ عمران خان اور نواز شریف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں صرف کرسی پر دونوں میں اختلاف ہے ایک چوتھی بار اور دوسرا پہلی بار وزارت عظمی کیلئے لڑتے رہے ، ایک کو عدالت نے گھر بھیج دیا جبکہ دوسرے کے ہاتھ میں وزارت عظمی کی لکیر ہی نہیں اور وہ صرف تخت اسلام آباد کیلئے پختونوں کے مینڈیٹ کی توہین کر کے پنجاب کے ووٹ بنک کی سیاست کر رہے ہیں،صوبائی حکومت کی مجموعی کاکردگی پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور ایک مچھر کے آگے پوری حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ڈینگی نے خیبر پختونخوا میں تبدیلی کا پول کھول دیا البتہ انہوں نے مختلف واقعات میں متعدد افراد کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر حکومت غیر ذمہ داری کا مطاہرہ نہ کرتی تو قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں ، انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ پختون آپس میں اتفاق و اتحاد سے اے این پی کے پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں،اور اپنے دوست و دشمن کی پہچان کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے جدوجہد کریں ، اس موقع پر اے این پی کی مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے بھی خطاب کیا۔