سیاستدانوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو جمہوریت کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں،سیاستدانوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو جمہوریت کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب کے شہر خوشاب میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ ہم تمام قومیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حق میں ہیںاور جس طرح پختونخوا میں بسنے والے تمام قومیتوں کے افراد کو تحفظ حاصل ہے پنجاب میں بھی اس کی تقلید ہونی چاہئے، انہوں نے کہا کہ قومیتوں کے درمیان نفرت حکومتی پالیسیوں کے باعث پیدا ہوتی ہے اور جس طرح دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی آڑ میں پنجاب میں پختونوں کے ساتھ بد سلوکی کی گئی وہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے ، شناختی کارڈز کی بندش، گھروں پر چھاپوں ، تھانوں میں رجسٹریشن جیسے عوامل کی وجہ سے پنجاب میں بسنے والے پختون ذہنی کرب میں مبتلا ہو گئے، انہوں نے کہا کہ ہم بھائی چارے کی فضاءچاہتے ہیں اور پنجاب کے شہری یاد رکھیں کہ اگر اے این پی دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں نہ دیتی تو دہشت گردوں کا آج پورے پنجاب پر قبضہ ہوتا، میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکمران اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں بصورت دیگر پنجاب کے بسنے والوں کو تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی نرسریاں اور مضبوط اڈے پنجاب میں ہیں اور70سے زائد کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر کاروائیاں کر رہی ہیں جبکہ اب انہوں نے مختلف ناموں سے سیاسی جماعتیں بھی تشکیل دے رکھی ہیں،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ختم کرنے اور پائیدار امن کیلئے گڈ اور بیڈ کی تمیز کئے بغیر پنجاب میں آپریشن کیا جائے ،یہ مائنڈ سیٹ کی جنگ ہے اور ہم باچا خان کی سپاہی ہونے کے ناطے ملک کے ہر کونے میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہیںاور اس ناسور کے خلاف جنگ جاری رہے گی، پانامہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی نے تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلہ قبول کیا تاہم سیاستدانوں کو اپنے مسائل پارلیمنٹ میں حل کرنا چاہئیں اور پارلیمنٹ کے اختیارات دوسرے اداروں تک نہیں جانے چاہئیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی بھرپوری کوشش کی جس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور خیبر پختونخوا میں کیو ڈبلیو پی کو حکومت سے نکالنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی،انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جیتے جاگتے شہید کر دیا گیا اور اب وہ اپنا مقدمہ لے کر عوام کی عدالت میں پیش ہو گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ آئینی تبدیلی نیک شگون ہے تاہم پارلیمنٹ کے اندر ہونے والے فیصلوں سے دوسرے اداروں کو معاملات میں مداخلت کا موقع نہیں ملتا البتہ ملک کا مفاد اسی میں ہے کہ جمہوریت مضبوط ہو ، انہوں نے کہا کہ ہم اپنا مقدمہ پنجاب لے کر آئے ہیں اور یہاں کے عوام کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر رہے ہیں جس پر انہیں سوچنا ہو گا کہ وہ اپنا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے اپنی صوبائی حکومت پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ اپنی پالیسیاں عوامی مفاد میں بنائے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم پنجاب کے عوام کے ساتھ اور ہمیشہ ان کے دکھ درد میں شریک رہیں گے ، انہوں نے پنجاب میں بسنے والے پختونوں سے بھی اپیل کہ وہ آپس میں متحد رہیں اور امن کے قیام کیلئے اتفاق و اتحاد کی جتنی ضرورت آج ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھی