سانحہ بابڑہ کربلا ثانی تھا ،اقتدار میں آ کر سانحہ کی تحقیقات کرائیں گے ،  میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکر ٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سانحہ بابڑہ پختونوں کیلئے کسی کربلا سے کم نہیں اور دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اس سانحہ کی تحقیقات کرائی جائے گی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے غازی بابا مسجد میں یوم بابڑہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ایمل ولی خان اور ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبداللہ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ، رہنماؤں نے شہدائے بابڑہ کی یادگار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادریں چڑھانے کے بعد شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی، پارٹی رہنماؤں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو سلام پیش کیا ، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ سانحہ بابڑہ ایک عظیم سانحہ ہے اور آزادی کی خاطر قربانیاں دینے والوں کو تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی، انہوں نے کہا کہ 12اگست انسانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور شہدائے بابڑہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ سانحہ بابڑہ یزید وقت کے ظلم اور بربریت کا دن اور کسی کربلا سے کم نہیں تھا جب باچا خان بابا، عبدالولی خان ، غنی خان کو تحریک کے دیگر 4ہزار ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تو اس کے خلاف امن کے علمبردارں اور انسانیت کا پرچار کرنے والوں نے پر امن مظاہرہ کیا جس کی قیادت سالار امین جان کر رہے تھے جبکہ سپین ملنگ اس مظاہرے میں پیش پیش تھے ، خدائی خدمت گاروں کی گرفتاری کے خلاف پر امن احتجاج کیلئے ارد گرد کے علاقوں مردان صوابی نوشہرہ اور دیگر علاقوں سے پیدل سفر کے خدائی خدمت گار مقررہ جگہ پہنچے ،جہاں اس وقت کے یزید حکمرانوں نیان پر گولیوں کی بارش کر دی ،اور اس بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پہلی گولی سپین ملنگ کو لگی جبکہ خواتین اور بچوں سمیت سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 602افراد شہید کر دیئے جبکہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی، انہوں نے کہا کہ یزیدیت کی اس قدر انتہا کی گئی کہ ایک ہزار سے زائد لوگ اندھی گولیوں کا نشانہ بن کے زخمی ہوئے تاہم سرکاری ہسپتالوں میں ان کے علاج پر پابندی کے باعث بیشتر افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ،اور بیشتر شہداء کو ملحقہ دریاؤں میں پھینک دیا گیا ، اور اجتماعی قبریں کھود کر لاشیں پھینک کر دفن کر دی گئیں،اور جو زندہ بچ گئے انہیں زندانوں میں ڈال دیا گیا ،انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین سے زبر دستی زمینیں ضبط کی گئیں اور سانحے میں چلائی جانے والی گولیوں کے اخراجات بھی ان سے وصول کئے گئے ، جبکہ ستم ظریفی یہ کہ انہیں کہا گیا کہ اگر گولیاں ختم نہ ہوتیں تو کئی اور جانیں بھی لی جاتیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس کربلا ثانی کے پیچھے جو بھی سازش تھی اس کا پتہ چلایا جائے گا کیونکہ یہ ان شہداء اور غازیوں کا ہم پر قرض ہے ،انہوں نے کہا کہ اس وقت کی حکومت خدائی خدمت گار تحریک کی مقبولیت سے خائف ہو چککی تھی اور اسے اپنی کشتی ڈوبتی دکھائی دے رہی تھی، تاہم تحقیقات میں سب کچھ سامنے آ جائے گا،انہوں نے کہا کہ باچا خان کے سپاہی ڈرنے اور جھکنے والے نہیں ہم عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور کبھی کسی فرعون ، یزید ، شمر اور ڈکٹیٹر کے آگے نہ جھکے اور نہ ہی جھکیں گے،انہوں نے کہا کہ جس طرح کربلا کے میدان میں حضرت حسین ؑ نے یزید کے آگے سر نہیں جھکایا اسی طرح سانحہ بابڑہ بھی کربلا ثانی ہے ، انہوں نے کہا کہ جس طرح یزید کا آج کوئی نام لیوا نہیں اسی طرح بابڑہ میں کشت و خون کرنے والے یزیدوں کو بھی یاد نہیں کیا جاتا ، زندہ قومیں اپنے اسلاف، شہداء اور غازیوں کی قربا نیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں اور جب تک ممکن ہوا ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ،انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر خونریزی کے باوجود خدائی خدمت گاروں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا کیونکہ یہ باچا خان بابا کی تربیت کا نتیجہ تھا ،انہوں نے شہداء کو سلام اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ لازوال قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات انتہائی ضروری ہیں،اور دونوں ممالک اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔