دہشت گرد دوبارہ منظم ہو چکے ہیں،ناکام پالیسیاں بدلنے کا یہی وقت ہے ، میاں افتخار 

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک کی مجموعی صورتحال مخدوش ہے اورکوئٹہ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی کاروائیاں تشویشناک ہیں،دہشت گردی نے پختونوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبی ون خدریزی سمندر گڑھی اور محلہ شیخ اعظم بابا میں دو مختلف شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر پی ٹی آئی کی انتہائی اہم سرکردہ شخصیات اور سینکڑوں کارکنوں نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 14اگست سے قبل کوئٹہ میں دہشت گردوں نے وار کیا جس پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ناکام ہیں اور انہیں اب تبدیل کرنے کا وقت آ چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت اپنی پالیسیاں سپر پاور کی بجائے قومی مفاد میں بنائیں تو صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشورہ کر کے فوری طور پر داخلہ و خارجہ پالیسیاں از سر نو ترتیب دی جائیں ، انہوں نے کہا کہ بد امنی کا خاتمہ حکومت کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے اور عسکری و سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام سیاسی و عسکری قیادت جس 20 نکاتی دستاویز پر متفق ہوئی اس پر من و عن عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، صرف وزیرستان آپریشن سے امن کا قیام ممکن نہیں آپریشن سے دہشت گرد وقتی طور پر منتشر ہوئے تاہم اب وہ دوبارہ منظم ہو چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اور پنجاب میں اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی نرسریاں پنجاب میں ہیں اور 70سے زائد کالعدم تنظیمیں آج بھی مختلف ناموں سے چندے وصول کر رہی ہیں لیکن ان پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ، انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان تنہائی کا شکار ہے اور دنیا بھر میں ہمارے ہاں ہونے والی بد امنی زیر بحث ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں جس طرح دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی وہ تاریخ کا انمٹ باب ہے اور یہی وجہ ہے کہ اے این پی آج تک دہشت گردوں کے ٹارگٹ پر ہے ، کہ آئے روز اے این پی میں ہونے والی شمولیتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام پی ٹی آئی کی کارکردگی سے متنفر ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے بعد اب ان کی خاتون رکن کی جانب سے پرویز خٹک پر لگائے گئے لزامات کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے اور اس سلسلے میں احتسابی ادارے فوری حرکت میں آئیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سے عوام دوست پالیسیوں کی توقع رکھنا عبث ہے،انہوں نے کہا کہ تصوراتی ایجنڈے،غیر ذمہ دارانہ رویے اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبہ مسائل کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ انتظامی امور سے نا بلد حکو مت کے دور میں ہر طبقہ فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں،عوامی مسائل کا ادراک نہ رکنھے والی حکومت نہ صرف یہ کہ صوبے کے محدود وسائل استعمال کرنے میں ناکام ہو گئی ہے بلکہ صوبے کو تاریخ کے بدترین مالی و انتظامی بحران سے دوچار کر دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقی کا پہیہ رک گیا ہے ،اور تمام امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں،جس کا خمیازہ دہشت گردی کے مارے عوام بھگت رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ عوام کی نظریں اے این پی پر لگی ہیں اور اسی سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے کے طول و عرض میں رابطہ عوام مہم کو مزید مضبوط بنانے پارٹی کو منظم کرنے اور صوبے و فاٹا کے کونے کونے تک شمولیتی تقاریب مزید بڑھانے کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لانا ہونگی ۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ نوشہرہ میں بطور وزیر میں نے جو ترقیاتی کام کئے وہ اپنی مثال آپ ہیں جبہ موجودہ حکومت کا وزیر اعلیٰ ،ایم این ایز اور ایم پی ایز یہاں سے منتخب ہوئے لیکن صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ آنے والا دور اے این پی کا ہے اور 2018کے الیکشن میں کامیابی کے بعد عوام کی خدمت کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے