حکومت ڈینگی پر پوائنٹ سکورنگ کی بجائے زمینی حقائق کو مد نظر رکھے، میاں افتخار حسین

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ڈینگی کے حوالے سے صوبائی حکومت کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے وائرس سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انگلی سے سورج کو چھپانے کی روش درست نہیں انسانی جانوں کا کوئی دوسرا نعم البدل نہیں ہو سکتا ، پنجاب میں ڈینگی کے بعد وہاں کی صوبائی حکومت کو ناکام اور حکمرانوں کو ڈینگی برادران کہنے والے آج اپنے صوبے میں ڈینگی کے بعد سے کہیں نظر نہیں آ رہے ، جبکہ پنجاب میں نہ صرف ڈینگی پر قابو پایا گیا بلکہ ڈاکٹروں کو بیرون ملک اس حوالے سے ٹریننگ بھی دی گئی تا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے، انہوں نے کہا کہ پشاور میں ڈینگی کا حملہ نئی بات نہیں کافی عرصہ سے کیسز سامنے آ رہے تھے لیکن صوبائی حکومت نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں حکومتی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئیں، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قابل ڈاکٹروں کی کمی نہیں تاہم انہیں زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹریننگ نہیں دی گئی ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ڈینگی کے خلاف متعلقہ ناظمین نے آواز اٹھائی تو صورتحال سامنے آنے لگی، انہوں نے کہا سوشل میڈیا پر سب اچھا کی رپورٹ دینے سے حقیقت چھپ نہیں سکتی ،صوبے میں صورتحال واقعی سنگین ہے اور اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے انسانی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا ، انہوں نے کہا کہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے غیر ممالک سے بھی امداد قبول کر لی جاتی ہے پنجاب تو پھر پاکستان کا حصہ ہے لہٰذا صوبائی حکومت پوائنٹ سکورنگ ،اور سیاست سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کی بنیاد پر کام کرے ،انہوں نے کہا کہ اس اہم ایشو پر حکومت مسلسل غلط بیانی سے کام لے رہی ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پنجاب سے آنے والی ٹیم نے سب سے پہلے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے رابطہ کیا جنہوں نے ٹیم کو خوش آمدید کہا تاہم جب کاروان صحت کی ٹیم نے گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی تو صوبائی حکومت نے ان سے ناطہ توڑ لیا۔ وزیر صحت کی جانب سے انکار کر دیا گیا اور سوشل میڈیا پر اعلانات کر دیئے گئے کہ ہمیں امداد کی ضرورت نہیں اور ہم نے ڈینگی پر قابو پا لیا ہے حالانکہ صورتحال اس کے بر عکس ہے، مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، اور پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں اور ڈینگی کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع صحت کا انصاف پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس صورتحال سے سبق سیکھنا چاہئے اور فوری طور پر احتیاطی تدابیر، مرض کی روک تھام اور فوری علاج معالجے کے طریقہ کار کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ لوگوں میں اس موذی مرض سے بچاؤ کیلئے شعور اجاگر کیا جا سکے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کا حلیہ بگاڑ دیا ہے صحت کی سہولیات عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں اور صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ اب ان حالات میں حکومت انگلی سے سورج چھپانے کی بجائے حقیقت کا سامنا کرے اور عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی اور ڈینگی کی روک تھام کیلئے فوری طور پر میدان عمل میں آئے۔